شیراز کا ایک اور کارنامہ، گاؤں کو ایمبولینس فراہم کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
شیراز نے اپنی سوشل میڈیا انکم کو گاؤں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
شیراز نے پہلے اپنے گاؤں کے اسکول کو اپ گریڈ کیا اور اب مقامی آبادی کے لیے ایک فری ایمبولینس فراہم کی ہے، جو دیہی عوام کے لیے صحت کی سہولتوں تک فوری رسائی میں مددگار ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ننھے ولاگر شیراز کا شاندار اقدام، سوشل میڈیا کی کمائی سے اسکول اپ گریڈ کروا دیا
شیراز کے مطابق گاؤں کے لوگ بیماری کی صورت میں 1 سے 2 گھنٹے کا سفر کرکے شہر پہنچتے تھے، جو خاص طور پر غریب افراد کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ نئی ایمبولینس اب مریضوں کو بروقت اسپتال تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
شیراز کی اس انسانیت دوست کاوش کو سوشل میڈیا اور مقامی کمیونٹی میں بے حد پذیرائی ملی ہے۔
ایک صارف نے لکھا’شیراز نے یوٹیوب آمدنی سے پہلے اسکول اپ گریڈ کیا اور اب ایمبولینس مہیا کی، تمام یوٹیوبرز کو اس سے سیکھنا چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیں: وی لاگنگ ترک کردینے والے ننھے شیراز نے نیا وی لاگ کیوں بنایا؟
ایک اور صارف نے کہا ’اللہ اسے مزید حوصلہ دے، یہ انسانیت کی خدمت اور ایدھی صاحب کے نقش قدم پر چلنے کا بہترین عمل ہے۔‘
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شیراز نے نہ صرف گاؤں کے مسائل کم کیے ہیں بلکہ یہ بھی دکھایا ہے کہ ایک فرد اپنی صلاحیت اور آمدنی کو مثبت سمت میں لگا کر معاشرے میں حقیقی تبدیلی لاسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسکول ایمبولینس پاکستان شیراز فلاحی کام گلگت بلتستان ویلاگر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول ایمبولینس پاکستان فلاحی کام گلگت بلتستان ویلاگر
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘