آسٹریلیا میں ’امریکی ٹارزن‘ کی مگر مچھوں کے ساتھ خطرناک حرکات، ملک بدری کے مطالبات
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
آسٹریلیا میں امریکی ایڈونچر بلاگر مائیک ہولسٹن، جو سوشل میڈیا پر ’ریئل ٹارزن‘ کے نام سے مشہور ہیں، مگرمچھوں کے ساتھ خطرناک اسٹنٹس کرنے پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ان کی ملک بدری اور دوبارہ داخلے پر پابندی کے مطالبات بھی سامنے آ گئے ہیں۔
ہولسٹن نے حالیہ دنوں کوئنز لینڈ میں فلمائی گئی ویڈیوز شیئر کیں جن میں وہ مگرمچھوں پر جھپٹتے اور ان سے لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ندی والا گھر سے لے کر، تہذیب کی کہانی، ہمارا مشرقی ورثہ تک
ان حرکات پر نہ صرف جنگلی حیات کے اداروں اور ماہرین ماحولیات نے سخت ردعمل ظاہر کیا بلکہ بین الاقوامی تنظیم پیٹا (PETA) نے بھی انہیں ’انتہائی ظالمانہ‘ قرار دے کر ملک بدری کا مطالبہ کیا۔
کوئنز لینڈ کے وزیراعلیٰ ڈیوڈ کریسافولی نے اس طرزِ عمل کو غیر ذمہ دارانہ کہا، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف جانوروں کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ قانوناً بھی ممنوع ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’امریکی ٹارزن‘ آسٹریلیا ایڈونچر بلاگر مائیک ہولسٹن مگر مچھوں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ٹارزن آسٹریلیا مائیک ہولسٹن مگر مچھوں
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔