بھارتی فوجی اہلکار مراعات نہ ملنے پر مودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
بھارتی فوجی اہلکار مراعات نہ ملنے پر مودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے WhatsAppFacebookTwitter 0 13 September, 2025 سب نیوز
مودی سرکار اپنے سپاہیوں کے لیے موذی حکومت بن گئی ہے۔ بھارت کی ریاست بہار میں متعدد فوجی اہلکار بھارتی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
11 سمبر سے شروع ہونے والے احتجاج میں بھارتی آرمی کے اہلکار ضروریات پوری نہ ہونے اور مراعات نہ ملنے پر ریاست بہار کے مختلف شہروں میں نکلے ہوئے ہیں۔
احتجاج کرنے والوں میں سابق اور حاضر سروس فوجی اہلکار دونوں شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈین آرمی کے اہلکاروں نے ضروریات پوری نہ ہونے اور مراعات نہ ملنے پر ریاست بہار کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسر سونو سنگھ شودر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھارتی فوج کے احتجاج کی ویڈیو پوسٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم 8 دن سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں مگر حکومت کا کوئی بھی نمائندہ ہمیں سننے نہیں آیا ہے۔
ایک اور بھارتی فوج کے اہلکار کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں کا کہنا تھا ہم مودی سرکار اور ریاست بہار کے حکمرانوں سے بارہا اپنی ضروریات اور مراعات کے لیے درخواستیں دے چکے لیکن جب سرکار کی طرف سے سنوائی نہ ہوئی تو ہم نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔
ایک بھارتی صارف نے احتجاج کے حوالے سے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ مودی سرکار بھارتی فوج کی عزت کرتی ہے تو آج ملکی فوج حکومت کے خلاف نعرے کیوں لگا رہی ہے؟ فوجیوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ جہاں الیکشن ہوتے ہیں وہاں صرف سماعت کی امید ہوتی ہے۔
بھارتی شہر پٹنہ میں احتجاج کرتے ہوئے انڈین فوجی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا سلسلہ پورے ملک میں پھیلا دیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایمان مزاری کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سے مکالمے کی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ایمان مزاری کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سے مکالمے کی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست عدلیہ کو انصاف فراہم کرنے کے سفر میں چیلنجز کا سامنا ہے: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان، قیمت میں کتنا اضافہ ہو سکتا ہے؟ ’ججوں کے میٹر چالو رہتےہیں‘، خواجہ آصف اور سعد رفیق اشرافیہ کی مراعات پر پھٹ پڑے اگر میئر بنا تو نیتن یاہو کی نیویارک آمد پر گرفتاری کا حکم دوں گا، زہران ممدانی حسان نیازی کی ملٹری کورٹ کارروائی کیخلاف درخواست سماعت کےلئے مقررCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مراعات نہ ملنے پر حکومت کے خلاف فوجی اہلکار سڑکوں پر
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔