مالی مشکلات سے تنگ ہیں؟ جانیے چیٹ جی پی ٹی کیسے آپ کی مدد کرسکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
امریکا میں مالی منصوبہ بندی اور قرض سے نجات کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
تازہ ترین سروے اور رپورٹس کے مطابق امریکی بالغ افراد کی نصف سے زائد آبادی اپنے مالی معاملات جیسے بجٹ سازی، قرض کی ادائیگی اور سرمایہ کاری میں خود فیصلے کرتی ہے اور اب ان میں سے ایک بڑی تعداد مشاورت کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نو عمر لڑکے کی خودکشی: اوپن اے آئی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی پر والدین کا کنٹرول متعارف
کریڈٹ کارما کے ایک حالیہ سروے کے مطابق دو تہائی بالغ افراد جنہوں نے چیٹ جی پی ٹی یا گوگل جیمینائی جیسے چیٹ بوٹس استعمال کیے، انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ان پلیٹ فارمز سے مالی مشورہ حاصل کیا۔
مزید یہ کہ ان میں سے 80 فیصد نے کہا کہ ان کے مالی حالات میں بہتری آئی۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں یہ رجحان زیادہ نمایاں ہے جہاں تقریباً 82 فیصد جنریشن زیڈ اور ملینیل صارفین نے مالی رہنمائی کے لیے اے آئی استعمال کرنے کی تصدیق کی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ڈیلاویئر کی جینیفر ایلن نے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے 30 روزہ چیلنج شروع کیا تاکہ 23 ہزار ڈالر کے کریڈٹ کارڈ قرض کو کم کر سکیں۔ اس دوران انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کے کہنے پر غیر استعمال شدہ اشیا بیچ کر، پلازما ڈونیٹ کر کے اور گھریلو کھانوں سے بچت کر کے تقریباً نصف قرض اتار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی کی مقبولیت میں تاریخی اضافہ، کاروباری صارفین 5 کروڑ تک پہنچ گئے
ماہرین کا کہنا ہے کہ چیٹ بوٹس اپنی تیز رفتاری، کم لاگت اور آسان رسائی کی وجہ سے مقبول ہیں۔ یہ سروسز فوری طور پر بجٹ پلان، بچت کے طریقے اور سرمایہ کاری کی حکمتِ عملیاں تجویز کرتی ہیں۔ تاہم خطرات بھی موجود ہیں، جن میں غلط یا پرانی معلومات، ڈیٹا لیک ہونے کا اندیشہ اور غیر متوازن مشورے شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ پیسہ چیٹ جی پی ٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیسہ چیٹ جی پی ٹی چیٹ جی پی ٹی کے لیے اے آئی
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔