پہلا کویلیم ٹی 20کرکٹ ٹورنامنٹ شاندار انداز میں اختتام پذیر، فرسان کمپنی کے چیف ایگزیکٹو چوہدری افضل مبشر چیمہ مہمان خصوصی
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پہلا کویلیم ٹی 20کرکٹ ٹورنامنٹ شاندار انداز میں اختتام پذیر، فرسان کمپنی کے چیف ایگزیکٹو چوہدری افضل مبشر چیمہ مہمان خصوصی WhatsAppFacebookTwitter 0 15 September, 2025 سب نیوز
خمیس مشیط ( خالد نواز چیمہ ) خمیس مشیط میں منعقدہ پہلا کویلیم ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ جوش و خروش اور یادگار مناظر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی فرسان کمپنی کے چیف ایگزیکٹو چوہدری محمد افضل مبشر چیمہ تھے، جنہوں نے بطور مہمان خصوصی شرکت کرکے ایونٹ کو مزید وقار بخشا۔فائنل میچ کے بعد ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب میں چوہدری افضل مبشر چیمہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا: کویلیم ٹورنامنٹ علاقائی سطح پر کھیل کے فروغ کا ایک مثر پلیٹ فارم ہے جو مستقبل میں مزید باصلاحیت کھلاڑیوں کو سامنے لائے گا۔
چوہدری محمد افضل مبشر چیمہ نے قربان علی بھٹی، افضل بٹ اور ان کے تمام ساتھیوں کا شکریہ بھی ادا کیا جن کی محنت اور تعاون سے یہ ایونٹ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔اختتامی تقریب میں ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو ونر ٹرافی جبکہ رنر اپ ٹیم کو اعزازی ٹرافی دی گئی۔ شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو مین آف دی میچ اور مین آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ کھلاڑیوں نے کہا کہ چوہدری افضل مبشر چیمہ کی شرکت اور حوصلہ افزائی نے ان کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ٹورنامنٹ کے منتظمین نے بھی چوہدری افضل مبشر چیمہ کی شمولیت پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں اعزازی شیلڈ پیش کی اور کہا کہ بزنس کمیونٹی کا کھیلوں میں تعاون معاشرتی اور کھیلوں کے میدان دونوں میں ایک مثبت مثال ہے۔اس ٹورنامنٹ کی کامیابی میں اسپانسرز اور منتظمین کا نمایاں کردار رہا۔
مرکزی اسپانسر عمران شبیر (مالک کویلیم ریسٹورنٹس اینڈ مارکیز، فیصل آباد)نے مالی تعاون فراہم کیا، جس کے نتیجے میں ایونٹ کو “کویلیم ٹی 20” کا نام دیا گیا۔کو اسپانسر قیصر بشیر(چیف ایگزیکٹو آفیسر روز مارکیز، اسلام آباد)نے بھی بھرپور معاونت فراہم کی۔اس کے علاوہ قربان علی بھٹی (سینئر وائس چیئرمین ، عسیر کرکٹ لیگ)نے بھی ٹورنامنٹ کی مشترکہ اسپانسرشپ کرتے ہوئے ایونٹ کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایکو ٹورازم اپنے بہترین مقام پر: ایتھوپیا کی وانچی, افریقہ کے گرین ٹریول کی بحالی میں آگے نیتن یاہو سے ملاقات، امریکا کا ایک بار پھر اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی کارروائی ،سی ڈی اے میں جعلی پاور آف اٹارنی کے ذریعے ڈی 13فور میں 5پلاٹوں کی ملکیت... نئی مانیٹری پالیسی جاری، شرح سود 11 فیصد کی سطح پر برقرار نواز شریف لندن روانہ، طبی معائنہ کرائینگے، اہم ملاقاتیں بھی شیڈول ایمان مزاری نے چیف جسٹس کیخلاف ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایت جمع کروادی سوشل میڈیا اسٹار احمد شاہ کے چھوٹے بھائی کے اچانک انتقال کی وجہ سامنے آگئی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چوہدری افضل مبشر چیمہ چیف ایگزیکٹو
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔