کیا دو روز میں دریا کا بہاؤ معمول پر آجائے گا، پی ڈی ایم اے کا اندازہ،
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی تیزی سے نیچے کی جانب جا رہا ہے اور آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں دریاؤں کے بہاؤ کے معمول پر آنے کی توقع ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سال مجموعی طور پر غیر متوقع بارشیں ہوئیں اور ستمبر کے آخر تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق شجاع آباد اور جلال پور پیروالا میں دو بند ٹوٹنے کے باعث موٹروے کو بند کرکے مرمتی کام جاری ہے، جبکہ گوجرانوالا اور گجرات میں نکاسی آب کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔
عرفان کاٹھیا نے بتایا کہ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں بڑی تعداد میں لوگ دریا کے کنارے موجود ہیں، وہاں 17 ہزار خاندانوں کے لیے ٹینٹ سٹی قائم کیا گیا ہے۔ متاثرین کو راشن کے ساتھ ان کے مویشیوں کے لیے چارے کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریلیف کیمپوں میں سب سے زیادہ جلدی امراض کی شکایات سامنے آئی ہیں، تاہم روزانہ ہزاروں مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم فیلڈ میں موجود ہیں۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تخمینے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں اور متاثرین کے نقصانات کا ازالہ 30 روز میں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک