ڈی جی آئی ایس پی آر کی آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ کیساتھ نشست
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
میرپور(نیوز ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آزاد جموں و کشمیر کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست کی۔
خصوصی نشست میں خان محمد خان پوسٹ گریجویٹ کالج، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور گورنمٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار گرلز کے طلباء اور اساتذہ نے شرکت کی۔
طلباء کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی پر طلبہ اور اہل کشمیر کی طرف سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور جانوں کا نظرانہ دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی۔
اساتذہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔