پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ، سوشل میڈیا پر لوگوں کی خوشی دیدنی
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بدھ کے روز ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے گئے۔ اس تاریخی موقع کی مناسبت سے دونوں ممالک میں سرکاری سطح پر خصوصی تقاریب اور سجاوٹ کا اہتمام کیا گیا۔
The Kingdom Tower in Riyadh, tonight
????????????????#SaudiArabia #Pakistan pic.
— PTV News (@PTVNewsOfficial) September 17, 2025
سعودی عرب کے مختلف شہروں میں اہم عمارات اور نمایاں مقامات کو سعودی اور پاکستانی پرچموں سے مزین کیا گیا، اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی متعدد سڑکوں، سرکاری عمارات اور دیگر اہم مقامات کو قومی پرچموں اور دلکش روشنیوں سے سجایا گیا۔
Islamabad is being decorated right now with banners and flags of Saudi Arabia and Pakistan friendship. A history is in making! pic.twitter.com/dfvnwEtm64
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) September 17, 2025
دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے کے بعد صارفین بھی اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آتے ہیں۔ تقی عثمانی نے لکھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترک دفاع کا معاہدہ مدت کے بعد ایک خوشی کی خبر ہے جسکا گرم جوش خیر مقدم کرنا چاھئے اللہ تعالیٰ دونوں ملکوں کی حفاظت فرمائیں اور انہیں پوری امت کے لیے بہترین مثال بننے کی توفیق بخشیں آمین۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترک دفاع کا معاہدہ مدت کے بعد ایک خوشی کی خبر ہے جسکا گرم جوش خیر مقدم کرنا چاھئے اللہ تعالیٰ دونوں ملکوں کی حفاظت فرمائیں اور انہیں پوری امت کے لئے بہترین مثال بننے کی توفیق بخشیں آمین
— Muhammad Taqi Usmani (Official) (@muftitaqiusmani) September 17, 2025
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاکہ میں ولی عہد کی بصیرت اور وہ قیادت جو وہ مسلم دنیا کو فراہم کر رہے ہیں، کو دل سے سراہتا ہوں انہوں نے مزید کہا کہ میری دلی دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی ہمیشہ پروان چڑھتی رہے اور نئی بلندیوں کو چھوئے۔Deeply touched by the heart warming welcome, accorded to me by my dear brother HRH Prince Mohammed bin Salman, Crown Prince and Prime Minister of Saudi Arabia, on my official visit to Riyadh.
From the unprecedented escort provided to my aircraft by the Royal Saudi airforce jets… pic.twitter.com/RZvkOSQbF1
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 18, 2025
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سعودی ائیر فورس کے جہازوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے جہاز کے سعودی ائر سپیس میں داخل ہوتے ہی اپنی جلو اور حفاظت میں لے لیا۔ سعودی عرب حکومت کی طرف سے برادرانہ محبت اور احترام کا مظاہرہ۔ عالم اسلام میں یہ مقام اللہ کی مہربانی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کی سفارتی مہارت اور ہماری افواج کی بے مثال کامیابیوں کا ثمر ہے۔ اللہ اکبر
سعودی ائر فورس کے جہازوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے جہاز کے سعودی ائر سپیس میں داخل ھوتے ھی اپنی جلو اور حفاظت میں لے لیا۔ سعودی عرب حکومت کیطرف سے برادرانہ محبت اور احترام کا مظاہرہ۔ عالم اسلام میں یہ مقام اللہ کی مہربانی، شہباز شریف کی سفارتی مہارت اور ھماری افواج کی بے مثال… pic.twitter.com/mFyWzVhdJL
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) September 17, 2025
ظفر حجازی نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ ابتدا ہے، اب باقی عرب ممالک بھی اسی طرح استقبال کریں گے اور معاہدہ کریں گے۔
سعودی عرب نے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا ۔ یہ ابتدا ہے، اب باقی عرب ممالک بھی اسی طرح استقبال کریں گے اور معاہدہ کریں گے۔
پاکستان زندہ باد۔
— Zafar Hijazi (@goneneutral) September 17, 2025
عمر چیمہ لکھتے ہیں کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک وقت تھا کہ سعودی عرب ایسا معاہدہ امریکا کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔
پاک-سعودی دفاعی معاہدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک وقت تھا کہ سعودی عرب ایسا معاہدہ امریکہ کیساتھ کرنا چاہتا تھا اور اسکے جواب میں امریکہ چاہتا تھا کہ سعودیہ اسرائیل کو تسلیم کرے pic.twitter.com/ClScb1u8Le
— Umar Cheema (@UmarCheema1) September 18, 2025
فرحان ورک نے کہا کہ آج سعودی پاکستان دفاعی معاہدے کے چند ہی لمحوں میں اسلام آباد شہر ایسے سج گیا ہے کہ جیسے ہم بھی ریاض کا حصہ ہیں۔
اسلام آباد کے لائیو مناظر!
آج سعودی پاکستان دفاعی معاہدے کے چند ہی لمحوں میں اسلام آباد شہر ایسے سج گیا ہے کہ جیسے ہم بھی ریاض کا حصہ ہیں۔
اللہ پاک نے پاکستان کو یہ عظیم سعادت بخشی ہے۔ پاکستان کی غیور افواج آج سے حرمین شریفین کی بھی محافظ ہیں۔ pic.twitter.com/69627tWiLE
— Dr Farhan K Virk (@FarhanKVirk) September 17, 2025
ساجد عثمانی نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد کی تمام عمارتیں روشنیوں سے جگمگا رہی ہیں ۔ شاہراہوں پر صرف پاکستان اور سعودی عرب کے پرچم لہرا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مناظر اس برادرانہ رشتے کی خوبصورت جھلک ہیں جو دل سے دل کو جوڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دوستی کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، ہمارا ایمانی رشتہ مزید مضبوط کرے۔
اس وقت اسلام آباد کی تمام عمارتیں روشنیوں سے جگمگا رہی ہیں ۔ شاہراہوں پر صرف پاکستان اور سعودی عرب کے پرچم لہرا رہے ہیں ????????????????۔ یہ مناظر اس برادرانہ رشتے کی خوبصورت جھلک ہیں جو دل سے دل کو جوڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس دوستی کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، ہمارا ایمانی رشتہ مزید مضبوط کرے۔… pic.twitter.com/iAEc1zgDdW
— Sajid usmani (@sajidusmani787) September 17, 2025
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق طے پائے جانے والے معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان سعودی عرب پاکستان سعودی عرب معاہدے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سعودی عرب پاکستان سعودی عرب معاہدے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے تھا کہ سعودی شہباز شریف اسلام آباد اللہ تعالی معاہدے کے کریں گے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔