ایک وزیراعظم کو جہاز سے اتارا گیا، آج شہباز شریف کو سعودی جنگی طیاروں نے سلامی دی، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے ہی ایک وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ حرکتوں پر جہاز سے اُتار دیا گیا تھا، لیکن آج تاریخ نے رخ بدلا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کا جہاز جیسے ہی سعودی فضائی حدود میں داخل ہوا تو سعودی جنگی طیاروں نے سلامی دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عزت و وقار کسی سیاسی شخصیت کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ہے۔
سرگودھا میں الیکٹرک بس سروس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل میں موجود شخص کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ پاکستان کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی تذلیل کرنے کی کوشش کی گئی مگر سعودی عرب میں جو عزت ملی وہ سب کے سامنے ہے۔ سعودی قیادت نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر حملہ تصور ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ صرف کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ ایک عظیم دفاعی کامیابی ہے۔ حرمین شریفین کی پاسبانی کا شرف پاکستان کو ملنا ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑی سفارتی اور تاریخی کامیابی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ آج شہر کے عوام کے لیے 33 الیکٹرک بسوں کا تحفہ لائی ہوں، پورے شہر کے لیے 60 اور سرگودھا ڈویژن کے لیے مجموعی طور پر 105 بسیں فراہم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدید بسیں عوام کو معیاری اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کریں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس موقع پر دل کے امراض کے علاج کے لیے بڑے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پورے سرگودھا ڈویژن میں کارڈیالوجی اسپتال موجود نہیں تاہم اب ’نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی‘ پر باقاعدہ کام شروع ہوگیا ہے۔ اس اقدام سے دل کے مریضوں کو فیصل آباد یا دیگر شہروں میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
سیلابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب نے حالیہ دنوں تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کیا۔ 3 دریاؤں میں آنے والے پانی سے 27 شہر اور 5 ہزار سے زائد دیہات متاثر ہوئے۔ مگر حکومت کی بروقت تیاری کی بدولت بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ 25 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، متاثرہ خاندانوں کو خیمے اور خوراک فراہم کی گئی جبکہ 22 لاکھ سے زائد مویشی بھی بچا لیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔