جہاد کا اعلان صرف ریاست کا اختیار ہے، کسی گروہ یا فرد کو اجازت نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ریاستِ پاکستان کسی بھی غیر ریاستی عناصر کو قبول نہیں کرتی اور ملک میں کسی بھی مسلح جتھے یا تنظیم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
5 ستمبر کو جرمن جریدے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں افغان مہاجرین، دہشتگردی، بھارت کی پالیسیوں اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کا حق ہے، کسی گروہ یا فرد کا نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ 4 دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، تاہم اب ان کی باعزت واپسی کے لیے منظم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر افغان مہاجرین کے انخلا کی ڈیڈ لائن میں کئی بار توسیع کی، لیکن مستند شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے دہشتگردی اور سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ افغان مہاجرین کو پناہ دینے کی بنیادی وجوہات غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی تھیں، جو اب باقی نہیں رہیں۔
بھارتی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت میں پرتشدد واقعات اس کی انتہاپسندانہ سوچ کا نتیجہ ہیں، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی اور بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔
’پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں بھارتی ریاستی ادارے بشمول حاضر سروس فوجی افسران کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ پاکستان ان شواہد کو متعدد بار عالمی برادری کے سامنے رکھ چکا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ بھارت کے ریاستی ادارے بشمول فوج شدت پسند سیاسی نظریات کے زیر اثر ہیں۔
دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے بطور فرنٹ لائن اسٹیٹ اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیار دہشتگردوں کے استعمال میں آ رہے ہیں، جس پر امریکا بھی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔
انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ پاک بھارت کشیدگی اور معرکۂ حق کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا قائدانہ کردار اسٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آیا، جبکہ پاکستان اپنے برادر ملک چین کے ساتھ تعمیری اور اسٹریٹجک تعلقات رکھتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ امریکا نے کالعدم مجید بریگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہے اور بلوچستان میں ہلاک ہونے والے کئی دہشتگرد نام نہاد مسنگ پرسنز کی فہرستوں میں شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری افغان مہاجرین پاکستان جرمن جریدے صدر ٹرمپ غیر ریاستی عناصر لیفٹیننٹ جنرل مسئلہ کشمیر معرکہ حق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر احمد شریف چوہدری افغان مہاجرین پاکستان غیر ریاستی عناصر لیفٹیننٹ جنرل مسئلہ کشمیر معرکہ حق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان مہاجرین کہ پاکستان نے کہا کہ کے لیے ایس پی
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز