لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 ستمبر ۔2025 )ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ مون سون 2025اب مکمل ختم ہوچکا ، آئندہ ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے، تمام دریاﺅ ں میں اب صورتحال نارمل ہوگئی ہے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرفان کاٹھیا نے بتایا کہ سیلابی کیفیت میں جو بھی صورتحال ہوئی، اس کے بارے آگاہ کریں گے، تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں، ستلج میں پانی کا بہا ﺅتھوڑا سا زیادہ ہے.

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ایم فائیو موٹروے سیلابی پانی کی وجہ سے متاثر ہوئی، ایم فائیو موٹروے کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کیا جاچکا ہے، گزشتہ 48گھنٹے سے پانی کم ہورہا ہے، اب تک موٹروے پر کسی قسم کے بریچ کا فیصلہ نہیں ہوا ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنیکل ٹیم مسلسل صورتحال کومانیٹر کررہی ہے، پنجاب گورنمنٹ کو این ایچ اے اورسوئی ناردرن گیس کی پوری طرح سپورٹ رہی، آئندہ ہفتے کسی بارش کا امکان نہیں.

انہوں نے بتایا کہ چناب میں مرالہ سے لے کر پنجند تک پانی کا بہا ﺅ معمول کے مطابق ہے، تمام شگاف آئندہ ایک ہفتے میں بھر دئیے جائیں گے، راوی پر سدھنائی کے مقام پر بہت بڑا شگاف ڈالا گیا تھا، اس کو پوری طرح بھر دیا گیا ہے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ سیلابی پانی سندھ کیلئے زیادہ نقصان کا باعث نہیں بنا، دریائے سندھ میں سکھر کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، پانی کی سطح میں 62 ہزار 325 کیوسک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے.

عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا مون سون سیزن ختم ہونے کے بعد سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے، پانی کا لیول کم ہونے کی وجہ سے اب کافی اضلاع میں کشتیاں بھی آپریشنل نہیں ہے انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں مرالہ سے لے کر پنجند تک پانی کا بہا معمول کے مطابق ہے، ابھی پانی کا لیول کم ہو رہا ہے ، بند توڑنا نہیں پڑا ہے. ان کا کہنا تھا سیلاب کی صورتحال میں تمام اداروں نے مل کر کام کیا، پنجاب میں آج تک 28 اضلاع میں 4 ہزار 755 دیہات متاثر ہوئے، سب سے زیادہ علی پور، ملتان اور جلال پور میں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا 24 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیر آب آیا، چاول کی فصل 15 فیصد اور گنے کی فصل 22 فیصد متاثر ہو ئی ہے، محکمہ زراعت نے مویشیوں کو چارہ دینے میں بہت مدد کی اور لائیو اسٹاک کو بچایا.

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ 425 میڈیکل کیمپس میں متاثرین کو طبی امداد فراہم کی گئی، سانپ کے کاٹنے کی وجہ سے ایک ہلاکت ہوئی، اب تک پوری سیلابی صورتحال میں 123 افراد جاں بحق ہوئے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا نے بتایا کہ متاثر ہو پانی کا

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا