ہم افغان سرزمین پر امریکی افواج کی واپسی کو مسترد کرتے ہیں، بگرام ایئر بیس سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان پر افغانستان کا رد عمل
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
کابل(ڈیلی پاکستان آن لائن)بگرام ایئر بیس سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان پر افغانستان نے رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغان سرزمین پر امریکی افواج کی واپسی کو مسترد کرتے ہیں۔
افغان وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی ناقابل عمل ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز دورہ برطانیہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شی جن پنگ سے بات ہو رہی ہے، امید ہے کچھ فائنل ہوجائےگا، چین سے بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان پر حملے سے متعلق کمسن بچے کاسوال،بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف لاجواب ہو گئے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔