data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: شہر کی اہم ترین ٹرانسپورٹ اسکیم ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبہ گزشتہ تین برس سے تاخیر کا شکار رہنے کے بعد اب مکمل طور پر تعطل میں آگیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی ڈونر اداروں نے بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور فنڈز کی بندر بانٹ کے باعث منصوبے کے لیے مزید رقم جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔

باوثوق ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیوں نے خطیر رقم پہلے ہی فراہم کردی تھی تاکہ تعمیراتی کام شفاف اور بروقت مکمل کیا جاسکے، بدانتظامی اور مبینہ کرپشن کے باعث منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ سندھ حکومت کی جانب سے اس تعطل کی اصل وجوہات عوام سے پوشیدہ رکھی جا رہی ہیں اور شہریوں کو محض یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ منصوبہ عارضی طور پر رکا ہے۔

شہر کی مرکزی شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر جاری اس منصوبے کی بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، تعمیراتی کام رکنے کے باعث سڑک سکڑ کر محض ایک سروس روڈ کی صورت اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں صبح و شام شدید ٹریفک جام معمول بن گیا ہے، متبادل راستے بھی بھاری گاڑیوں اور واٹر ہائیڈرنٹس کی نقل و حرکت کے باعث مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتے ہیں۔

عوام کاکہنا تھاکہ  منصوبے میں تاخیر سے ٹریفک مسائل، ماحولیاتی دباؤ اور شہری سہولتوں کی کمی میں مزید اضافہ ہوا ہے جبکہ اربوں روپے کی اس اسکیم پر عوامی اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔

 شہریوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی روڈ جیسے مصروف ترین راستے کو نامکمل منصوبے کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے، جو اب صرف ایک خستہ حال سروس روڈ کا منظر پیش کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ مکمل طور پر عالمی فنڈنگ پر مبنی ہے اور سندھ حکومت نے اس میں کسی قسم کی براہ راست مالی معاونت فراہم نہیں کی۔ دوسری جانب میئر کراچی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فنڈز بحال نہ ہوئے تو منصوبہ 2035 سے قبل مکمل نہیں ہوسکے گا۔

عوامی نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی فوری انکوائری کی جائے، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شہریوں کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

واضح رہے کہ ریڈ لائن منصوبے کے فنڈز 2018 میں منظور کیے گئے تھے، ابتدائی لاگت 50 کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی تاہم غیر معمولی تاخیر کے باعث اس کی لاگت بڑھ کر 103 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، تعمیراتی کام 2022 میں شروع ہوا تھا اور اس کی ڈیڈلائن 2025 دی گئی تھی، مگر اب منصوبہ غیر معینہ مدت تک کے لیے رک چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے باعث کے لیے

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے

سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔ 

شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے  نفسیاتی  اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو  تنخواہ  ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی  سارے بجٹ کو  ہلا دیتی ہے ۔  اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور  دیگر  اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔  حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔ 
 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم