چوہدری شجاعت پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے چیئرمین منتخب
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ و سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کو پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔
گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کی رہائش گاہ لاہور میں پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے صدر محمد طارق حسن اور سیکرٹری سہیل انور نے ملاقات کی۔
چوہدری شجاعت حسین نے ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں پہلی بار پانچ گولڈ میڈل لانے پر طارق حسن اور سہیل انور کو مبارکباد دی۔
طارق حسن نے کہا کہ ملک اور قوم کے لئے چوہدری شجاعت حسین کی خدمات لازوال ہیں جو فیڈریشن اور پاکستان کے باڈی بلڈرز کے لئے سود مند ثابت ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان کے ایتھلیٹ مزید میڈل لائیں اور ان کے مالی معاملات بھی بہتر ہو سکیں جس پر سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت نے رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قومی کھلاڑی قومی ہیروز ہوتے ہیں پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔
پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سہیل انور کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے چیئرمین بننے سے ملک میں باڈی بلڈنگ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ لاہور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چوہدری شجاعت کہا کہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔