ویکسینیشن: نسلوں کی نسل کشی؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نام نہاد ’’سرویکل ویکسین‘‘، جسے HPV (ہیومن پاپیلوما وائرس) ویکسین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، انسانیت کی مستقبل پر ایک ہتھیار بند حملے سے کم نہیں ہے۔ جب پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کو نشانہ بنانے والی HPV ویکسین مہم کی خبر ملی جو 15 سے 27 ستمبر 2025 تک چل رہی ہے، تو میرے اندرونی الارم کی گھنٹیاں پہلے سے زیادہ شدت سے بجنے لگیں۔ میں نے برسوں سے بگ فارما کی دھوکا دہی اور انسان مخالف سازشوں پر نظر رکھی ہوئی ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی شیطانی کتاب کا ایک اور باب ہے۔ بگ فارما، فورڈ فاؤنڈیشن اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن جیسی نام نہاد ’’خیراتی‘‘ تنظیموں کے ساتھ مل کر، تیسرے دنیا کے ممالک خاص طور پر مسلم اکثریتی ممالک جیسے پاکستان کو مفت COVID، پولیو، اور HPV ویکسینوں سے بھر رہا ہے۔ یہ کوئی احسان نہیں؛ یہ ایک سوچی سمجھی آبادی گھٹانے کی سازش ہے۔ ان ویکسینوں کے تباہ کن ضمنی اثرات میں، بشمول اچانک اموات اور دل کے دورے کے ساتھ مردوں میں مستقل نامردی اور عورتوں میں بانجھ پن شامل ہے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ مسلم ممالک، پاکستان جیسے ملک کی نوجوان نسل کو نشانہ بنا کر پیدائش کی شرح کو کم کرنے کی ایک ہدف شدہ مہم ہے، تاکہ ان کی آبادیاتی طاقت اور تہذیبی تسلسل کو کمزور کیا جائے۔ کیا پاکستانیوں نے کبھی رک کر سوچا ہے کہ بل گیٹس کو ان کے بچوں سے اتنی ’’محبت‘‘ کیوں ہے؟ یہ آدمی فلسطینی بچوں کی نسل کشی اور دنیا بھر کی انسانی مصیبتوں پر آنکھیں بند رکھتا ہے، پھر بھی اس کی توجہ مسلم دنیا کے بچوں کو ویکسین لگانے پر مرکوز ہے۔ یہ چنندہ محبت اور منتخب پسندی کیوں ہے؟
اس کی ’’لامحدود‘‘ محبت کو پاکستان کی حکومت بھی تسلیم کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے پولیو ویکسین کے لیے اس کا شکریہ ادا کیا ہے، جبکہ سندھ کے چیف منسٹر نے COVID-19 اور پولیو شاٹس کو لازمی قرار دیا ہے، خاص طور پر کراچی میں۔ کوئی بھی اس ’’خاص محبت‘‘ کی تفتیش نہیں کرتا جو کراچی کی آبادی کو زبردستی انجیکشنوں کے ذریعے دی جاتی ہے۔ سندھ حکومت ایک ’’پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ‘‘ چلا رہی ہے جو عورتوں پر فیملی پلاننگ اور برتھ کنٹرول کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے، جس کا واضح ہدف آبادی کی افزائش کو روکنا ہے۔ ان کے ہتھیاروں میں حمل بندی کی مشاورت، مانع حمل ادویات جیسے گولیاں، کنڈوم، انجیکشن، IUDs، اور وہ ہر ممکن طریقہ جو بچوں کی پیدائش کو روکے، شامل ہے۔ ان کا سارا یا زیادہ زور کراچی پر ہے۔ تاہم دیگر صوبوں میں بھی اسی طرح کے محکمے موجود ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ یہ آئی ایم ایف قرضوں کی شرائط کا ایک حصہ ہے۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے، وہ آئی ایم ایف بیل آؤٹس میں شامل ہر خفیہ ایجنڈا آئٹم کو ظاہر کرے، بشمول کسی بھی پوشیدہ آبادی کنٹرول کے احکامات۔
حکومتیں بھاری رشوتوں سے خریدی جاتی ہیں، این جی اوز کو مغربی فنڈز سے بھرا جاتا ہے، اور تعلیمی نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ فرمانبردار، سوال نہ کرنے والے غلام تیار کرے نہ کہ تنقیدی سوچ رکھنے والے افراد۔ پاکستان میں فیملی پلاننگ کو فروغ دینے والے این جی اوز مغربی آقاؤں سے فنڈڈ ہیں، اور اب ویکسینز اس خاموش قاتل کا حتمی ہتھیار بن گئی ہیں۔ لڑکیوں کی رحم میں ایک بائیو کیمیکل بم جو آنے والی نسلوں کو تباہ کر دے۔
جب میں نے پاکستان کی مہم کی خبر کینیڈین وکیل لیزا میرون (Lisa Miron) کو وہاٹس ایپ کے ذریعے شیئر کی، تو ان کا فوری جواب خوفناک تھا: ’’اوہ میرے خدا۔ یہ بانجھ پن کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ کوئی شک نہیں‘‘۔ لیزا ویکسی نیشن کی سازشوں پر نظر رکھتی ہیں اور اپنے Substack بلاگ کے ذریعے دنیا کو خبردار کرتی ہیں۔
کووڈ 19 ویکسین رول آؤٹ کے آغاز پر، کینیڈین ماہرین نے حکومتوں، میڈیا، اور عوام کو ویکسینوں کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔ ان کی ہر تنبیہ سچ ثابت ہوئی ہے۔ ان کے اثرات پیش گوئی سے کہیں زیادہ مہلک تھے۔ پھر بھی، حکام نے انہیں ’’سازشی تھیورسٹ‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا اور انسان مخالف ویکسین کارٹلز کیپبل کریلیشنز پتلے بن گئے۔ یاد رکھیں کووڈ 19 بیماری اور کووڈ 19 ویکسینز الگ الگ چیزیں ہیں۔ وائرس کی ابتدا اور علاج الگ بحثیں ہیں، لیکن ویکسینز؟ ماہرین نے خبردار کیا تھا: 1) طویل مدتی ضمنی اثرات برسوں تک پوشیدہ رہ سکتے ہیں؛ 2) پہلے کورونا وائرس ویکسین کبھی منظور نہیں ہوئی کیونکہ جانوروں پر ٹیسٹ میں مہلک اثرات تھے؛ 3) یہ شاٹس انفیکشن یا ٹرانسمیشن کو روکتے نہیں؛ 4) جلد بازی میں پروٹوکولز نے ویکسی نیشن کو غیر اخلاقی انسانی تجربہ بنا دیا۔
متبادل میڈیا اور سائنسی جریدوں کی یہ ہولناک پیش گوئیاں نہ صرف درست تھیں بلکہ وہ کم تھیں۔ تباہی ناقابل بدل ہے: لاکھوں ہلاک ہوگئے، بھارت کے لوگوں کو دل کے دوروں اور صحت کے ناقابل تلافی نقصان کا غیر متناسب بوجھ اٹھانا پڑا۔ مشکوک طور پر امریکا سے آنے والی کووڈ ویکسینز دنیا بھر میں مختلف بیچ نمبروں کے ساتھ بھیجی گئیں، جو مختلف قوموں کو مختلف نقصان پہنچانے کے لیے تیار کردہ فارمولیشنز کے خدشات کو ہوا دیتی ہیں۔ یورپی یونین کمیشن نے بھی تسلیم کیا ہے کہ کووڈ ویکسینز کو آبادی پر مناسب حفاظتی ڈیٹا کے بغیر لگایا گیا ہے۔ آسٹریائی MEP جیرالڈ ہاؤزر نے مطالبہ کیا: ’’کمیشن نے شہریوں کو کیوں نہیں بتایا کہ جی ایم ویکسینوں کی تاثیر اور حفاظت جیسا کہ معاہدے میں کہا گیا ہے۔ کی ضمانت نہیں تھی؟
دو تازہ دھماکا خیز کتابیں بگ فارما کی انسانیت کے خلاف جرائم کو بے نقاب کرتی ہیں: ’’دی فائزر پیپرز‘‘ از ناؤمی وولفThe Pfizer Papers by Naomi Wolf، جو فائزر کے اپنے دستاویزات سے ناقص ٹرائلز اور معلوم نقصانات کو ظاہر کرتی ہے، اور ’’دی کریج ٹو فیس کووڈ 19: پریونٹنگ ہاسپیٹلائزیشن اینڈ ڈیتھ وائل بیٹلنگ دی بائیو فارمیسیوٹیکل کمپلیکس‘‘ از جان لیک اور پیٹر اے۔ مک کالو ایم ڈی، THE COURAGE TO FACE COVID-19 Preventing Hospitalization and Death While Battling the Bio-Pharmaceutical Complex” by John Leake and Peter A.
پاکستانیو، اٹھو! اس زہر کو دوا کے روپ میں مسترد کرو۔ تمہارے بچوں کی زرخیزی، تمہاری قوم کا مستقبل داؤ پر ہے۔ احتساب کا مطالبہ کرو، سازشیوں کو بے نقاب کرو، اور اس نسل کشی کی مشین کو توڑ دو قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے گیا ہے کووڈ 19
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔