گیس چوری کیخلاف سوئی سدرن کی کارروائیاں؛ 550 غیر قانونی کنکشنز منقطع
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے سندھ اور بلوچستان میں گیس چوری کے واقعات کو ختم کرنے کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیے۔
ترجمان کے مطابق کراچی ریجن میں اینٹی گیس تھیفٹ آپریشن کے دوران ایس ایس اینڈ سی جی ٹی او ڈپارٹمنٹ نے کسٹمر ریلیشنز ڈپارٹمنٹ (تھیفٹ سیکشن)، ڈسٹری بیوشن ڈپارٹمنٹ اور ایس ایس جی سی پولیس اسٹیشن کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں متعدد چھاپے مارے اور گیس چوروں کے خلاف فوری کارروائیاں کیں۔
گزشتہ روز کیے گئے ایک بڑے چھاپے میں ٹیم نے ایس ایس جی سی کی 8 انچ مین ڈسٹری بیوشن لائن سے براہِ راست زیرِ زمین لگائے گئے غیر قانونی کنکشن منقطع کیے، جن کے ذریعے سیکٹر 30/C بینظیرآباد، گلستانِ فیصل، شاہ لطیف ٹاؤن، کراچی کی 550 گھروں کو چوری شدہ گیس فراہم کی جا رہی تھی۔
مزید برآں بھاری گیس جنریٹرز بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ ٹیم کو 3 کلو میٹر طویل غیر قانونی پائپ لائن ہٹانے کے لیے ایک ایکسکیویٹر بھی استعمال کرنا پڑا جب کہ جرم میں ملوث 4 ملزمان ، اللہ وڈایو ولد اللہ وسایا، فردوس خان، نوید اکمل ولد راحت عالم اور سلمان احمد ولد سلیم احمد کے خلاف 3 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
گیس چوری میں استعمال ہونے والا تمام سامان موقع پر قبضے میں لے لیا گیا اور ان کے خلاف واجب الادا دعوے کیے جائیں گے۔ ترجمان کے مطابق گیس چوری معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے اور ایس ایس جی سی ایسے تمام مجرموں کے خلاف اپنی سخت کارروائیاں جاری رکھے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان گیس چوری کے خلاف ایس ایس
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔