حکمران اپنی ناکامیوں کو تسلیم کریں اور نظام میں بہتری لائیں، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
صرف ریاست کی رٹ قائم کرنا نہیں بلکہ عوامی حقوق کا تحفظ بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، امیر جماعت اسلامی
، نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ترقی کی کنجی ہے، کوئٹہ کی مقامی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران اپنی ناکامیوں کو تسلیم کریں اور نظام میں بہتری لائیں۔ صرف ریاست رٹ قائم کرنا ہی نہیں عوام کو بنیادی سہولیات اور حقوق کی فراہمی بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کی مقامی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پروفیسر شکیل روشن سمیت متعدد نمایاں شخصیات نے جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ تقریب سے امیر صوبہ مولانا ہدایت الرحمن، سابق امیر مو لانا عبدالحق ہاشمی، پروفیسر شکیل روشن اور دیگر راہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران خوف خدا کرتے ہوئے خلق خدا کو ان کا حق دیں۔اسلام میں اقلیتوں سمیت ریاست کے ہرشہری کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔انہوں نے بلوچستان میں کرپشن، تعلیم و صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی، توانائی بحران اور نسلی امتیاز کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جماعت اسلامی مشترکات کو مدنظر رکھتے ہوئے قوم کو جوڑنے اور اللہ کی حاکمیت کی جدوجہد جاری رکھے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں کرپشن کا سخت مقابلہ جاری ہے جو مافیا کی سرپرستی کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔انہوں نے بلوچستان کی پسماندہ آبادیوں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی مظلوموں کے ساتھ ہے، بہتر لوگوں کو آگے لانے کے لیے جدوجہد تیز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقعوں کی فراہمی ترقی کی کنجی ہے۔ صوبہ میں تعلیمی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں 26 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں جو ایک قومی شرمندگی ہے۔تعلیم کوئی خیرات نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سورج کی روشنی سے بجلی بنانے کا آسان اور بہتر فارمولا موجود ہے، جسے فوری عمل میں لایا جائے تاکہ عوام کو سستی بجلی مل سکے۔ اجتماعی ترقی اور عدل و انصاف پر زور دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ غلطیوں کی بروقت نشاندہی کرتے رہنا ضروری ہے، کیونکہ آئی ٹی ایم (انفارمیشن ٹیکنالوجی مینجمنٹ) کی بنیاد پر ہی اجتماعی ترقی ممکن ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا تمام قبائل اور برادریوں کی دیکھ بھال حکمرانوں کا فرض ہے اور قبائلی و نسلی امتیاز نفرت کا باعث نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ حضور پاک نے انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کیے۔ زبان اور قوم کی بنیاد پر نہیں بلکہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اسلام کا مجموعی نظام پوری انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مساوات اور اجتماعیت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ افراد اجتماعیت کی بہترین مثال بن جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے امیر جماعت اسلامی بلوچستان میں کرتے ہوئے نہیں بلکہ نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔