کراچی میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
کراچی کے علاقے میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں۔ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ ایم نائن موٹر وے کے ساتھ میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تینوں خواجہ سراؤں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، تینوں کے سر سینے اور ہاتھوں پر گولیاں لگی ہوئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے بظاہر لگتا ہے تینوں افراد سڑک کنارے لفٹ لینے کے لیے کھڑے تھے، ممکنہ طور پر تینوں کو فائرنگ کرکے قتل کیاگیا اور ملزم فرار ہوگیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جائے واقعے گولیوں کے دو خول ملے ہیں، تینوں لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم کے بعد مزید شواہد سامنے آسکیں گے، تمام پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں، جائے وقوعہ ویران جگہ ہے وزیر اعلیٰ سندھ کا خواجہ سراؤں کے قتل کا نوٹس، آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میمن گوٹھ کے قریب سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مراد علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ خواجہ سراؤں کے قاتلوں کو ہرصورت گرفتار کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے کہا ہےکہ خواجہ سرا معاشرے کا وہ مظلوم طبقہ ہے جسے ہم سب نے عزت اور احترام دینا ہے، ریاست کسی بھی مظلوم اور معصوم شہری کا قتل برداشت نہیں کرے گی۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی ملیر واقعے سے متعلق ابتدائی معلومات سے آگاہ کریں، جائے وقوعہ سے شواہد کی تفتیش جدید اور ماڈرن تیکنیک کی بنیاد پر کی جائے، قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری میں انٹیلیجینس ذرائع بھی استعمال کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں کا کہنا ہے میمن گوٹھ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔