Express News:
2026-07-24@04:05:40 GMT

غزہ اور میڈ ان انڈیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

ایسے وقت جب نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ بین الاقوامی جرائم کی عدالت کے اشتہاری ہیں۔ایسے وقت جب اقوامِ متحدہ بھی باضابطہ طور پر تسلیم کر چکا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مجرم ہے۔ ایسے وقت جب اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویر اور وزیرِ خزانہ بیزلل سموترخ کو کھلی نسل پرستانہ نسل کشی کی وکالت کے سبب برطانیہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، ناروے ، نیدر لینڈز ، آئرلینڈ اور سلووینیا نے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر اپنے ہاں دونوں کی آمد پر پابندی لگا دی ہے۔

 ایسے وقت جب اسپین نے اسرائیل سے تجارتی و دفاعی تعلقات منقطع کر لیے ہیں اور دو ٹریلین ڈالرز کے مالک نارویجن ویلتھ فنڈ نے چونتیس اسرائیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور اسرائیل کو بلڈوزر فراہم کرنے والی سب سے بڑی عالمی امریکی کمپنی کیٹرپلر سے بھی انویسٹمنٹ اس بنا پر نکال لی ہے کہ کیٹر پلر بلڈوزر فلسطینیوں کی بے گھری اور نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ایسے وقت بھارت نے اسرائیل کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

منافقت یہ ہے کہ مودی حکومت اب بھی کاغذ پر دو ریاستی حل کی حامی ہے مگر دلی میں آپ فلسطین کے حق میں اگر آج احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں تو پولیس لاٹھی چارج کے لیے تیار ہے۔البتہ آپ اسرائیل کے حق میں جلوس نکالنا چاہتے ہیں تو پولیس آپ کو سیکیورٹی دینے پر بھی تیار ہے۔

جب سے مودی حکومت آئی ہے۔کسی بھی بین الاقوامی فورم پر فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف ہر قرار داد پر بھارت نے غائب رہنے میں ہی عافیت جانی۔حتی کہ گزشتہ برس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کی تو بھارت نے خود کو غیر حاضر ظاہر کیا۔

بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او )  کے وزرائے خارجہ اجلاس میں ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت سے انکار کر دیا۔لیکن جب ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر پچاس فیصد محصول لگایا تو چین میں ایس سی او کے سربراہ اجلاس کے اعلان نامے پر بھارت نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔اس اعلامیے میں ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت بھی شامل تھی۔

اسرائیل میں جو غیر ملکی زیرِ تعلیم ہیں ان میں سب سے بڑی تعداد بھارتی طلبا کی ہے۔سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد اسرائیلی زراعت و صنعت میں کام کرنے والے ڈیڑھ لاکھ فلسطینی کارکنوں کے اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے۔ان کی جگہ بھرنے کے لیے بھارت سے لگ بھگ ایک لاکھ کارکنوں کو بھرتی کیا گیا۔

بھارت اسرائیلی ہتھیار خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ پاکستان کے ساتھ سات تا دس مئی معرکے میں بھارت نے اسرائیلی ساختہ ہیرون ڈرونز اور میزائیل کھل کے استعمال کیے۔

گزشتہ برس چھ جون کو اسرائیل نے غزہ میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام ناصریہ پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی۔ایک میزائیل کے ٹکڑے پر لکھا تھا ’’ میڈ ان انڈیا ‘‘۔یہ تصویر دنیا بھر میں شایع اور نشر ہوئی۔

تب دنیا کو ٹھیک سے معلوم ہوا کہ بھارت اسرائیل کو کیا کیا فراہم کر رہا ہے۔گزشتہ برس اپریل میں چنئی کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے دو بحری جہازوں کی ٹریکنگ سے معلوم ہوا کہ ان جہازوں کی منزل غزہ سے متصل اسرائیلی بندرگاہ اشدود تھی۔بورکم اور ماریانا ڈنیکا نامی دونوں جہازوں کو اسپین نے اپنی بندرگاہوں پر عارضی قیام کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ان جہازوں پر راکٹوں کے دھماکا خیز چارجرز اور انجنوں کے علاوہ بارودی مواد اور بھاری توپوں کے فاضل پرزے بھی لدے ہوئے تھے۔ یہ جہاز یمنی ہوثیوں کی بحری ناکہ بندی سے بچنے کے لیے نہر سویز کے مختصر راستے کے بجائے افریقہ کے گرد لمبا چکر کاٹ کے براستہ بحیرہ روم اسرائیل جا رہے تھے۔

اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے مطابق اسرائیل کے براک میزائیلوں کے لیے موٹرز بھارت کی پریمیر ایکسپلوسیوز لمیٹڈ نامی کمپنی تیار کرتی ہے۔یہ کمپنی آر ڈی ایکس اور ایچ ایم ایکس دھماکا خیز مواد بھی فوجی مقاصد کے لیے برآمد کرتی ہے۔حیدرآباد میں اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو سپیس اور اسرائیلی کمپنی ایلبیت کی مشترکہ فیکٹری میں مسلح ہرمیس ڈرونز تیار ہوتے ہیں۔

بھارت اور اسرائیل میں دفاعی آلات کی تجارت اور ساجھے داری انیس سو ننانوے کی کرگل جنگ کے زمانے میں شروع ہوئی جب اسرائیل نے ہنگامی طور پر بھارت کو گولہ بارود اور فاضل پرزوں کی رسد فراہم کی۔لائن آف کنٹرول اور چین بھارت سرحد پر اسرائیل نے الیکٹرونک سنسرز کی باڑھ لگانے میں بھی بھرپور ساتھ دیا۔

وزیرِ اعظم ایتزاک رابین ، ایریل شیرون اور نیتن یاہو نے دلی کے متعدد دورے کیے جب کہ نریندر مودی نے دو ہزار سترہ میں پہلی بار اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا۔( مودی اور نیتن یاہو دو دو بار ایک دوسرے کے ہاں آ جا چکے ہیں )۔

یقین نہیں آتا کہ یہ وہی بھارت ہے جہاں وزیرِ اعظم اندراگاندھی کو یاسر عرفات نے منہ بولی بہن قرار دیا تھا۔ بھارت غیر جانبدار تحریک کا پہلا ملک تھا جس نے انیس سو چوہتر میں پی ایل او کو فلسطینیوں کی نمایندہ تنظیم اور انیس سو اٹھاسی میں فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کیا۔کانگریس آج بھی اسرائیل مخالف فلسطین نواز نظریے پر کاربند ہے البتہ ریاستی بیانیہ اس معاملے پر ایک سو اسی ڈگری گھوم چکا ہے۔

 ایسے وقت جب غزہ کے المیے کے سبب متعدد یورپی اور گلوبل ساؤتھ ممالک اسرائیل کے ساتھ تجارت سے کنی کترا رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کی دو طرفہ تجارت کا حجم تقریباً چار ارب ڈالر سالانہ ہے۔جب کہ مشترکہ سرمایہ کاری کا حجم تقریباً آٹھ سو ملین ڈالر ہے۔

 ایسے ماحول میں جب اسرائیل اپنی حرکتوں کے سبب دنیا میں سفارتی و سیاسی سطح پر تیزی سے تنہا ہو رہا ہے۔نسل پرست اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموترخ نے تین ہفتے پہلے دلی میں بھارتی ہم منصب نرملا سیتا رمن کے ساتھ دفاع ، سائبر سیکیورٹی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی میں ساجھے داری کے متعدد تازہ سمجھوتوں پر دستخط کیے۔بھارتی وزیرِ خزانہ نے بیزلیل کے دورے اور نئے سمجھوتوں کو دو طرفہ تعلقات کی نئی تاریخ رقم کرنے کے مترادف قرار دیا۔

اور پھر پاک سعودی دفاعی ساجھے داری کی خبر دلی پر گر پڑی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور اسرائیل ایسے وقت جب اسرائیل کے بھارت نے کے لیے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم