وطنِ عزیز کے خلاف دشمن قوتیں ایک بار پھر متحرک ہو چکی ہیں، طاہر کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
سابق وزیر نے کہا کہ بھارت نے نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو دبا رکھا ہے بلکہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دینے میں بھی پیش پیش ہے، بھارت ایک طرف خود کو دنیا میں جمہوریت کا علمبردار ظاہر کرتا ہے اور دوسری جانب کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاسبانِ وطن پاکستان کے مرکزی صدر اور سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کے خلاف دشمن قوتیں ایک بار پھر متحرک ہو چکی ہیں جو ملک میں بدامنی پھیلانے، پاک فوج کو بدنام کرنے اور عوام میں انتشار پیدا کرنے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں تاہم پوری قوم ان ناپاک عزائم کے خلاف متحد ہے اور پاک فوج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک اہم پریس بیان میں کہی جس میں انہوں نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات، سرحدی کشیدگی اور بھارت کی جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ملک پاکستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک بار پھر اپنے ایجنٹوں کو متحرک کر چکا ہے لیکن پاکستانی قوم افواج پاکستان کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گی۔محمد طاہر کھوکھر نے کہا کہ پاک فوج کے بہادر جوان ملک کے کونے کونے میں عوام کے تحفظ اور امن کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، ہمارے شہداء ہمارے ہیرو ہیںان کی قربانیاں اس ملک کی بقاء اور آزادی کی ضمانت ہیں جو عناصر ان قربانیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، وہ درحقیقت دشمن کے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان کے اندر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عوام اور افواج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان دشمن عناصر کس طرح ہمارے اندر نفرت، بدگمانی اور انتشار پیدا کر رہے ہیں ہمیں متحد ہو کر ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ سابق وزیر نے کہا کہ بھارت نے نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو دبا رکھا ہے بلکہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دینے میں بھی پیش پیش ہے، بھارت ایک طرف خود کو دنیا میں جمہوریت کا علمبردار ظاہر کرتا ہے اور دوسری جانب کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے اندر تخریب کاری، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے میں ملوث ہیں۔ کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوس اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر حد پار کر چکا ہے۔
طاہر کھوکھر نے کہا کہ پاک فوج نہ صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ دہشت گردی، قدرتی آفات اور داخلی خطرات کے خلاف بھی ہر اول دستے کے طور پر کردار ادا کر رہی ہے، ہماری افواج صرف جنگی محاذ پر ہی نہیں بلکہ امن و تعمیر کی راہوں میں بھی سب سے آگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر محب وطن شہری افواج پاکستان کی قربانیوں کا دل سے معترف ہے اور کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے میں آنے کے بجائے اس مقدس ادارے کا بھرپور دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت ہے کہ ہم ذاتی سیاسی اور مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی سلامتی کے لیے ایک ہو جائیں جو قومیں اپنی فوج اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں ایک متحد قوم بن کر سامنے آنا ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے اندر انہوں نے کہا کہ طاہر کھوکھر کہ پاکستان کہ بھارت کے خلاف پاک فوج کہ پاک ہے اور کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔