سابق وزیر نے کہا کہ بھارت نے نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو دبا رکھا ہے بلکہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دینے میں بھی پیش پیش ہے، بھارت ایک طرف خود کو دنیا میں جمہوریت کا علمبردار ظاہر کرتا ہے اور دوسری جانب کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاسبانِ وطن پاکستان کے مرکزی صدر اور سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کے خلاف دشمن قوتیں ایک بار پھر متحرک ہو چکی ہیں جو ملک میں بدامنی پھیلانے، پاک فوج کو بدنام کرنے اور عوام میں انتشار پیدا کرنے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں تاہم پوری قوم ان ناپاک عزائم کے خلاف متحد ہے اور پاک فوج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک اہم پریس بیان میں کہی جس میں انہوں نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات، سرحدی کشیدگی اور بھارت کی جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ملک پاکستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک بار پھر اپنے ایجنٹوں کو متحرک کر چکا ہے لیکن پاکستانی قوم افواج پاکستان کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گی۔محمد طاہر کھوکھر نے کہا کہ پاک فوج کے بہادر جوان ملک کے کونے کونے میں عوام کے تحفظ اور امن کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، ہمارے شہداء ہمارے ہیرو ہیںان کی قربانیاں اس ملک کی بقاء اور آزادی کی ضمانت ہیں جو عناصر ان قربانیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، وہ درحقیقت دشمن کے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان کے اندر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عوام اور افواج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان دشمن عناصر کس طرح ہمارے اندر نفرت، بدگمانی اور انتشار پیدا کر رہے ہیں ہمیں متحد ہو کر ان سازشوں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ سابق وزیر نے کہا کہ بھارت نے نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو دبا رکھا ہے بلکہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دینے میں بھی پیش پیش ہے، بھارت ایک طرف خود کو دنیا میں جمہوریت کا علمبردار ظاہر کرتا ہے اور دوسری جانب کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے اندر تخریب کاری، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے میں ملوث ہیں۔ کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوس اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر حد پار کر چکا ہے۔

طاہر کھوکھر نے کہا کہ پاک فوج نہ صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے بلکہ دہشت گردی، قدرتی آفات اور داخلی خطرات کے خلاف بھی ہر اول دستے کے طور پر کردار ادا کر رہی ہے، ہماری افواج صرف جنگی محاذ پر ہی نہیں بلکہ امن و تعمیر کی راہوں میں بھی سب سے آگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر محب وطن شہری افواج پاکستان کی قربانیوں کا دل سے معترف ہے اور کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے میں آنے کے بجائے اس مقدس ادارے کا بھرپور دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت ہے کہ ہم ذاتی سیاسی اور مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی سلامتی کے لیے ایک ہو جائیں جو قومیں اپنی فوج اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں ایک متحد قوم بن کر سامنے آنا ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کے اندر انہوں نے کہا کہ طاہر کھوکھر کہ پاکستان کہ بھارت کے خلاف پاک فوج کہ پاک ہے اور کے لیے

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد