اسحاق ڈار کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسحاق ڈار کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 23 September, 2025 سب نیوز
نیویارک: (آئی پی ایس) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر گلف کوآپریشن کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البُدایوی سے ملاقات کی۔
نائب وزیراعظم نے پاکستان کے جی سی سی کے ساتھ تعلقات کی اہمیت اجاگر کی اور رکن ممالک کے ساتھ متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور ادارہ جاتی روابط کو وسعت دینے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔
قبل ازیں امریکا میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور شام کے صدر احمد الشارع میں ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے احمد الشارع سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور شام کی دوستی کو مزید مضبوط بنائیں گے، شام کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
اس سے پہلے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دوطرفہ تعلقات پر اظہار اطمینان کیا گیا اور تجارت و اقتصادی تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس سے پہلے اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا کہ وہ تمام ممالک جنہوں نے فلسطین کو تاحال تسلیم نہیں کیا وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ریاست فلسطین کوتسلیم کریں۔
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ آج انہوں نے فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق اعلیٰ سطح کی کانفرنس میں شرکت کی ہے جو کہ فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کی گئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جنہوں نے فلسطینی ریاست کو 1988 میں آزادی کے اعلان کے فوری بعد تسلیم کیا تھا، فلسطین ریاست کو تسلیم کیا جانا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت فلسطینی عوام کا قانونی حق ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کی جانب قدم ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال فلسطین کو باضابطہ طور پر خود مختار ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، فرانس نے بھی اقوام متحدہ کانفرنس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کا باضابطہ اعلان کردیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردنیا کے پہلے چین-یورپ آرکٹک کنٹینر فاسٹ شپنگ روٹ کا باضابطہ آغاز اسلام آباد؛ ڈرائیونگ لائسنس کی مہلت میں توسیع، خلاف ورزی پر مقدمہ اور گرفتاری ہوگی فلسطین کو ریاست تسلیم نہ کرنے پر اٹلی میں ہنگامے پھوٹ پڑے، 60 اہلکار زخمی سپیکر قومی اسمبلی کا سینئر صحافی مظہر اقبال کے انتقال پر اظہار تعزیت جی ایچ کیو حملہ کیس: عمران خان کی فوٹیج دینے، ٹرائل روکنے کی درخواستیں خارج نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس: عمران خان واٹس ایپ لنک پر عدالت میں پیش، وکلا نے پھر بائیکاٹ کردیا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا حماس کے لیے انعام کی مانند ہے، وائٹ ہاؤسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ ریاست تسلیم فلسطین کو کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔