چین نے پاکستان کے ساتھ مل کر صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ چین کے اہم نتائج پرعمل درآمد اور ’مشترکہ ایکشن پلان 29-2025‘ کو آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’مشترکہ مستقبل کی شراکت داری‘ کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اپنے ایک مضمون میں صدر زرداری کے دورے کو چین اور پاکستان کے مابین دوستی کا نیا باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے عملی تعاون کو آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعلق کو مزید گہرا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر حملہ ہوا تو چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا، چینی تجزیہ کار

صدر زرداری 12 تا 21 ستمبر کے دوران گولڈن پانڈا انٹرنیشنل کلچرل فورم کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے چین گئے، جہاں انہوں نے سیچوان، شنگھائی اور سنکیانگ کے دورے کیے۔

یہ صدر زرداری کا رواں برس فروری کے بعد دوسرا دورہ تھا، جسے چینی سفیر نے نہ صرف چینی عوام کے ساتھ گہری محبت بلکہ چین اور پاکستان تعلقات کو دی جانے والی اہمیت کا ثبوت قرار دیا۔

مزید پڑھیں: چین پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے، چینی وزیر خارجہ

چینی سفیر کے مطابق صدر زرداری نے اس سفر میں 4 مختلف مقامات کا دورہ کیا، مقامی قیادت اور عام شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور فورم میں خطاب کرتے ہوئے فن و ثقافت کے ذریعے دنیا کو جوڑنے کے تصور کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ’گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو‘ کی بہترین عملی مثال ہے۔

مزید پڑھیں: اُرمچی میں پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

چین اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تبادلے کے ضمن میں حالیہ برسوں میں کئی نمایاں اقدامات ہوئے، جن میں فلم کی دونوں ممالک میں نمائش، گندھارا آرٹ ایگزیبیشن کا چین میں انعقاد، پاکستانی آموں کی مقبولیت، ’ٹی فار ہارمونی‘ کلچرل ایونٹ، چینی جامعات میں اردو پروگرامز اور سی پیک یونیورسٹیز کنسورشیم کا قیام شامل ہیں۔

صدر زرداری نے اپنے دورے میں ہائی اسپیڈ ٹرین کا تجربہ بھی کیا اور اسے ’انجینئرنگ کا معجزہ‘ قرار دیا، اس موقع پر انہوں نے چین کے ساتھ ’کوریڈور آف انوویشن‘ کو تیز تر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کے تعلقات ’ہمہ موسمی تذویراتی تعاون اور آہنی بھائی چارہ‘ ہیں، قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی

چین اور پاکستان نے سائنسی و تکنیکی تعاون کے مختلف منصوبے بھی شروع کیے ہیں جن میں ہوالونگ ون نیوکلئیر پاور پلانٹ، اور مشترکہ خلا نوردوں کی تربیت کے معاہدے شامل ہیں۔

شنگھائی میں صدر زرداری نے توانائی اور مالیاتی تعاون کے منصوبوں کا جائزہ لیا اور تھر انگروا کول پاور پروجیکٹ میں چینی سرمایہ کاری کو پاکستان کی توانائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کا مشترکہ اسپیس سائنس سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ

سنکیانگ کے دورے کے دوران صدر زرداری نے وہاں کی ترقی کو سراہتے ہوئے پاکستانی عوام کو اس خطے کے دورے کی ترغیب دی تاکہ ’ہمہ موسمی دوستی‘ مزید گہری ہو۔

چینی سفیر نے صدر زرداری کے اس حالیہ دورہ چین کو دونوں ملکوں کے مابین آہنی دوستی میں ایک اور درخشاں باب کا اضافہ بھی قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انجینئرنگ کا معجزہ پاکستان چین سائنسی و تکنیکی سنکیانگ صدر زرداری کوریڈور آف انوویشن ہائی اسپیڈ ٹرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انجینئرنگ کا معجزہ پاکستان چین سائنسی و تکنیکی سنکیانگ ہائی اسپیڈ ٹرین چین اور پاکستان پاکستان کے مزید پڑھیں چینی سفیر کے درمیان قرار دیا کے ساتھ کے دورے چین کے کے لیے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ