آج ’@‘ کا نشان ہمیں ای میل ایڈریس، سوشل میڈیا ہینڈل اور ڈیجیٹل دنیا میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے لیکن اس سادہ سے کرخت نشان کے پیچھے ایک کہانی ہزاروں سال پرانی ہے جو قدیم یونان کی مٹی کی برتن سازی سے شروع ہوتی ہے اور آج کی ڈیجیٹل دنیا تک جا پہنچتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اظہار محبت کے خفیہ اشارے: کیا ایموجیز صدیوں پرانے کوڈ ورڈز کا تسلسل ہیں؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے مشہور میوزیم ’میوزیم آف ماڈرن آرٹ‘کی کیوریٹر پاولا انتونیلی نے سنہ 2010 میں ایک منفرد قدم اٹھایا اور ’@ کا نشان‘ میوزیم کے مستقل ذخیرے میں شامل کر لیا۔

ان کا مقصد ایسے روزمرہ کے معمولی سمجھے جانے والی اشیا کو اجاگر کرنا تھا جنہوں نے انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے جیسے پوسٹ اٹ نوٹ، کاغذی کلپ، ایم اینڈ ایمز اور کچن ٹولز۔

دنیا بھر میں @ (ایٹ) کے دلچسپ نام

یہ حیرت کی بات ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ’@‘ کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ تائیوان میں اسے ’چھوٹا چوہا‘، روس میں ’کتا‘، ہالینڈ میں ’بندر کی دم‘ اور یونان میں ’چھوٹا بطخ’ کہا جاتا ہے۔ اٹلی میں اسے ’چیوتچولا‘ یعنی گھونگا، چیک ریپبلک میں ’زاویناچ‘ یعنی ہیرنگ رول جبکہ اسپین و پرتگال میں اسے ’آروبا‘  کہتے ہیں۔

مزید پڑھیے: زبان کا جادو: کیا آپ اصل انٹرنیٹ دیکھ بھی پاتے ہیں؟

عبرانی زبان میں ’@‘ کو غیر رسمی طور پر ’اسٹرُوڈل‘ کہا جاتا ہے جو ایک یورپی مٹھائی ہے۔ یہ تہہ دار (لچھے دار) آٹے سے بنائی جاتی ہے جس کے اندر عام طور پر سیب، دار چینی یا دیگر میٹھے اجزا بھرے جاتے ہیں۔ ’@‘ کی گول، لپٹی ہوئی شکل اس پیسٹری سے مشابہت رکھتی ہے اس لیے عبرانی بولنے والوں نے اسے مزاحیہ اور تخلیقی انداز میں ’اسٹرُوڈل‘ کا نام دے دیا۔ ایک علامت جو اب صرف انٹرنیٹ کا حصہ نہیں بلکہ مختلف ثقافتوں میں اپنی الگ پہچان بھی رکھتی ہے۔

@  کی قدیم جڑیں یونانی برتنوں سے لے کر ٹائپ رائٹر تک

علامت @ کی جڑیں قدیم یونانی مٹی کے برتن ’ایمفورا‘  سے جڑی ہوئی ہیں جنہیں تیل، اناج اور شراب ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ، ایمفورا ایک تجارتی پیمانہ بن گیا اور تاجروں نے ’a‘ کو ایک دم دار انداز میں لکھنا شروع کیا جو آخرکار ’@‘ کی شکل اختیار کر گیا۔

سنہ 1536 میں ایک اطالوی تاجر فرانچسکو لاپی نے ’@‘ کی موجودہ طرز پر پہلی بار اس علامت کو ایمفورا کے لیے استعمال کیا جب اس نے روم کو ایک خط میں شراب کی قیمت ’70 یا 80 ڈکٹ فی ایمفورا‘ کے حساب سے بتائی۔

ٹائپ رائٹرز اور بزنس اکاؤنٹنگ میں ‘@’ کی بقا

19ویں صدی میں جب ٹائپ رائٹرز کا استعمال عام ہوا تو @ نے بطور کاروباری علامت اپنی جگہ بنائی خاص طور پر قیمتوں کے اظہار کے لیے (مثلاً 5 items @ $2 each)۔یہی کاروباری اہمیت اسے ہر نسل کے ٹائپ رائٹر میں زندہ رکھتی رہی۔

مزید پڑھیے: انسان کے مزاج کتنی اقسام کے، قدیم نظریہ کیا ہے؟

انٹرنیٹ انقلاب: ’@‘ کی شناخت کا نیا جنم

سنہ1971  میں امریکی کمپیوٹر سائنس دان رے ٹاملِن سن نے پہلی ای میل بھیجنے کے لیے @ کا انتخاب کیا تاکہ یوزرنیم کو نیٹ ورک کے ایڈریس سے جوڑا جا سکے۔ یوں @ انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بن گیا اور تب سے یہ ہماری ڈیجیٹل شناخت کا جزو لا ینفک بن چکا ہے۔

آن لائن شناخت اور ‘@’ کا گہرا تعلق

ماہرین لسانیات کے مطابق آج کے ڈیجیٹل دور میں ’@‘ محض ایک علامت نہیں، بلکہ ہماری آن لائن شناخت کا عکاس ہے۔ لوگ اپنے یوزرنیمز کو بہت سوچ سمجھ کر چنتے ہیں کیونکہ وہ انہیں اپنے جذبات، شخصیت اور شناخت کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بغیر کوئی ای میل، سوشل میڈیا ہینڈل یا آن لائن گفتگو مکمل نہیں سمجھی جاتی۔

دی میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں @ کا اعزاز

دی میوزیم آف ماڈرن آرٹ کی نمائش میں جب @ کو شامل کیا گیا تو مقصد یہ تھا کہ لوگ عام اشیا کو نئے زاویے سے دیکھیں۔

پاؤلا انتونیلی نے کہا کہ اس چھوٹے سے نشان کے اندر ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔ یہ ہمیں اس بات کی خوشی اور فخر دلاتا ہے کہ ہم ایک ایسے ڈیزائن شدہ دور کا حصہ ہیں جہاں ہر چیز کے پیچھے ایک کہانی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟

آج بھی دنیا کے کچھ حصوں میں @ کو اس کی شکل کی بنیاد پر نام دیا جاتا ہے کوئی اسے گھونگا کہتا ہے، کوئی بندر کی دم، اور کوئی چھوٹی بطخ!

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

@ کا مطلب @ کا نشان ایٹ جنرل (ر) قمر باجوہ قدیم کہانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کا مطلب کا نشان ایٹ جنرل ر قمر باجوہ قدیم کہانی جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج