مارخور کے شکار کے 39 پرمٹ جاری، ایک کی قیمت 2 لاکھ 46 ہزار ڈالر
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمۂ برائے جنگلی حیات نے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت مارخور کے شکار کے 39 پرمٹ جاری کر دیے ہیں، اس بار ایک مارخور کے شکار کے پرمٹ کے لیے 2 لاکھ 46 ہزار امریکی ڈالرز کی ریکارڈ بولی لگائی گئی جو اب تک کی سب سے زیادہ بولی قرار دی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق محکمۂ جنگلی حیات کے ترجمان کاکہنا ہےکہ اس پروگرام سے صوبے کو مجموعی طور پر 54 کروڑ 27 لاکھ روپے کی آمدن متوقع ہے، اس آمدنی کا بڑا حصہ ان مقامی کمیونٹیز پر خرچ کیا جائے گا جو جنگلی حیات کے تحفظ اور دیکھ بھال میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام میں غیرملکی شکاریوں کی دلچسپی ہر سال بڑھ رہی ہے اور اس بار بھی زیادہ تر پرمٹ بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے افراد نے حاصل کیے ہیں، ان غیرملکی شکاریوں کے لیے پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے خاص کشش رکھتے ہیں جہاں مارخور کی بڑی اور نایاب نسلیں پائی جاتی ہیں۔
محکمہ نے مزید کہا کہ شکار ایک منظم پالیسی اور محدود پرمٹس کے تحت کرایا جاتا ہے، جس کا مقصد نایاب جانوروں خصوصاً مارخور کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی معیشت کو سہارا دینا ہے۔
واضح رہے کہ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور اس کے شکار کے لیے سخت قواعد و ضوابط وضع کیے گئے ہیں تاکہ اس کی نسل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
خیال رہےکہ ٹرافی ہنٹنگ پرمٹ ہمیشہ ایک جانور کے لیے مخصوص ہوتا ہے یعنی ایک پرمٹ پر صرف ایک مارخور کا شکار کیا جا سکتا ہے، خیبرپختونخوا کے جاری کردہ 39 پرمٹس کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ 39 مارخور شکار کیے جا سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے شکار کے مارخور کے کے لیے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔