WE News:
2026-07-24@03:52:57 GMT

بگرام کا ٹرکٖ

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دور صدارت ان کے گلے کو آگیا تھا۔ انہیں کسی چیز کا کچھ پتا ہی نہ تھا۔ ابھی حلف ہی نہ اٹھایا تھا کہ ان کے نامزد مشیر قومی سلامتی جنرل فلنگ ایف بی آئی کے ہتھے چڑھ گئے۔

صدارت شروع ہوئی تو جلد اپنی ہی ٹیم ان کا دھڑن تختہ کروانے پر تل گئی۔ بات مواخذے بلکہ مواخذوں تک پہنچ گئی۔ یوں اس دور صدارت کے بعد وہ خود ہی یہ کہتے پائے گئے کہ ہاں مجھے کچھ بھی سمجھ نہ آرہا تھا۔

یوں لگتا ہے اس دوسرے دور صدارت میں ان کی ایک مستقل حکمت عملی یہ ہے کہ خود کو ڈیڑھ شانڑاں باور کرایا جائے۔ اس کے لیے وہ طرح طرح کی مضحکہ خیز کوششیں کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر اس معاملے میں ان کی ایک مستقل کوشش یہ بھی رہتی ہے کہ لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جائے۔ اور جب وہ ٹرک کا پیچھا شروع کردیں تو یہ خود پتلی گلی سے کٹ لیتے ہیں۔

کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے اور گرین لینڈ کے حصول والا شوشہ ان کی ایسی ہی بتیاں تھیں۔ اسی ضمن میں ان کا نیا ٹرک افغانستان کا بگرام ایئربیس ہے۔ ہم اسے ٹرک کی بتی 2 وجوہات سے کہہ رہے ہیں۔ پہلی وجہ یورپ میں ہے اور دوسری ایشیا پیسفک میں۔

یہ بھی پڑھیں: دفاعی معاہدہ، سیاسی امکانات

پچھلے ڈیڑھ 2 ہفتوں کے دوران چار یورپین ممالک کی جانب سے یہ واویلا دیکھا گیا کہ رشین ڈرونز اور لڑاکا طیارے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

ان ممالک میں پولینڈ، اسٹونیا، رومانیہ اور ڈنمارک شامل ہیں۔ ان میں قدرے سیریس معاملہ پولینڈ کا لگتا تھا مگر وہ بھی یوں ڈرامہ ثابت ہوا کہ اپنی رینج کے لحاظ سے وہ ڈرونز رشیا سے پولینڈ پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ اور جب رشیا نے مشترکہ تحقیقات کی آفر کی تو پولینڈ انکار کرگیا۔ یورپین ممالک کے اس واویلے کی بابت آزاد عالمی ماہرین کی تقریبا متفقہ رائے یہ رہی کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یوکرین جنگ سے جوڑے رکھنے کی بھونڈی سی اسکیم ہے۔

اس رائے کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ حالیہ ٹویٹ کارفرما تھی جس میں انہوں نے روس پر مزید پابندیوں کا معاملہ اس بات سے مشروط کردیا تھا کہ یورپ پہلے رشین تیل خریدنا بند کرے۔

یہ ٹویٹ اس قدر جارحانہ تھی کہ ٹرمپ اس کے آخر میں یہ بھی کہہ گئے کہ اگر یورپ رشین تیل کی خریداری بند کرنے کو تیار نہیں تو پھر میرا وقت ضائع نہ کیا جائے۔

یہ وہی مجوزہ پابدیاں تھیں جن کے متعلق ٹرمپ نے روس کو پہلے پچاس پھر 10 دن کی مہلت دی تھی۔ ٹرمپ اور پیوٹن کی الاسکا والی ملاقات کا یہ نتیجہ تو دنیا دیکھ ہی رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کے بعد سے یوکرین کا ذکر بہت ہی کم کردیا ہے۔

یوں جب مذکورہ ٹویٹ بھی سامنے آگئی تو لگ بھگ طے ہوگیا کہ وہ یوکرین جنگ سے خود کو لاتعلق کر رہے ہیں۔ اسی لیے عالمی ماہرین کی پہلی رائے یہی بنی تھی کہ 4 یورپین ممالک کا فضائی حدود کی خلاف ورزی والا ڈرامہ درحقیقت امریکا کو یوکرین سے باندھے رکھنے کی کوشش ہے۔

مگر 3 روز قبل رائٹر نے ایک آرٹیکل کے ذریعے خبر دی ہے کہ سرحدی خلاف ورزی والے واویلے کے پیچھے اصل وجہ یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے ای یو کو آگاہ کیا ہے کہ وہ بالٹک ریاستوں سے امریکی اڈے ختم کرنے کی تیاری میں ہے۔ کیونکہ امریکا اب ان فضول خرچیوں کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔

رائٹر کا کہنا ہے جب سے یہ میسج برسلز پہنچا ہے سرحدی خلاف ورزیوں والے ڈرامے روز کا معمول بن گئے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یورپ میں اپنی فوجی موجودگی میں بڑی کمی لانے کی بات ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کئی بار کہی تھی۔ اس معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال یہ ہے کہ سوویت یونین واقعی خطرہ تھا۔ لیکن روس سے یورپ کو کوئی خطرہ نہیں۔ وہ تو تیس سال قبل نیٹو ممبرشپ بھی مانگ رہا تھا جو ہم نے نہیں دی۔

گویا یورپ میں یہ اندیشہ پہلے ہی موجود تھا کہ ٹرمپ وہاں امریکی فوج کی تعداد میں بڑی کمی کرسکتے ہیں۔ ایسے میں فی الحال اگرچہ صرف 3 بالٹک ریاستوں سے امریکا کی فوجی موجودگی ختم کرنے کی بات ہوئی ہے مگر امکان یہی ہے کہ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو بات صرف بالٹک ریاستوں تک رہے گی نہیں۔

یوں گویا یورپین ممالک کا سرحدی خلاف ورزی والا واویلا یوکرین سے نہیں جڑا بلکہ یہ یورپین یونین کا اپنا معاملہ ہے۔ اور یہی ہے یورپ میں موجود وہ وجہ جس کے تحت ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئربیس والا شور محض ٹرک کی بتی لگاتا ہے۔

ایشیا پیسفک سے جڑی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوج اور سی آئی اے کے سابق افسران انٹرویوز ہی نہیں بلکہ اپنے لکھے تجزیوں میں بھی یہ بات کر رہے ہیں کہ امریکا نے اچانک ایشیا پیسفک میں بھی فوجی موجودگی کم کرنی شروع کردی ہے۔ اس حوالے سے جنوبی کوریا اور جاپان کا خاص طور پر ذکر آیا ہے۔

جنوبی کوریا نے تو اس کی صاف تردید کی ہے لیکن پینٹاگون کی جانب سے معنی خیز تردید آئی۔ کہا گیا ’ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘ الفاظ کا یہ چناؤ صاف بتا رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ چل رہا ہے۔ جاپان والے معاملے میں تو تردید بھی اب تک نہیں آئی۔ جاپانی جزیرے اوکی ناوا سے 9000 یو ایس میرین کم کرنے کا پلان بتایا جا رہا ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے 4000 اب تک وہاں سے نکالے بھی جا چکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان اور کوریا دونوں کو مبینہ طور پر بتایا یہ گیا ہے کہ یہ فوجی گوام کے امریکی بیس پر منتقل کئے جا رہے ہیں جو پیسفک میں ہی واقع ہے۔

مزید پڑھیے: چارلی کرک کا قتل

لیکن ریٹائرڈ امریکی افسران کا کہنا ہے کہ یہ ان ممالک کی تسلی کے لئے کہا گیا ہے۔ فوجیوں کو گوام پہنچانے کے بعد اگلے مرحلے میں امریکا پہنچایا جا رہا ہے۔

ان ریٹائرڈ امریکی افسران کا کہنا ہے کہ چین کو گھیر نے کی بچی کھچی امیدیں بھی اس کی حالیہ وکٹری ڈے پریڈ سے دم توڑ گئی ہیں۔ اس پریڈ کے بعد امریکا اس معاملے میں یکسو ہوچکا کہ چین کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکتا۔ لہٰذا ایشیا پیسفک میں فوجی موجودگی کم کرنا ہی دانشمندی ہے۔ ان افسران کا کہنا ہے کہ امریکا اب بس بر اعظم امریکا پر ہی فوکسڈ رہنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس کی معاشی و سیاسی ہی نہیں بلکہ عسکری ساکھ بھی اب بڑے پنگے لینے والی نہیں رہی۔

اس پورے پس منظر میں یہ سوال غیر معمولی ہوجاتا ہے کہ اگر امریکا یورپ اور ایشیا پیسفک سے ہی اپنی فوجیں کم کر رہا ہے۔ بعض اڈے بھی بند کرنے کی تیاری میں ہے تو بگرام والے ایئربیس کا اس نے اچار ڈالنا ہے؟

اگر وہ وہاں سے چین کے خلاف کچھ کرنے کی سکت رکھتا تو افغانستان سے انخلاء ہی کیوں کرتا ؟ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دوحہ مذاکرات میں یہ کوشش ہوئی تھی کہ طالبان کو کچھ امریکی ملٹری بیسز برقرار رکھنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: بڑا جی ڈی پی، چھوٹی اوقات

مگر جب وہ ایک بیس بھی دینے کو تیار نہ ہوئے تو معاہدہ مکمل انخلاء کا ہی ہوا۔ سو ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ واقعی بگرام ایئربیس حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بگرام بس ایک ٹرک ہے جس کی بتی کے پیچھے دوڑنا دانشمندی نہ ہوگی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

امریکا صدر ٹرمپ یورپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا یورپ فوجی موجودگی یورپین ممالک معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے پیسفک میں خلاف ورزی یورپ میں کے پیچھے یہ ہے کہ رہے ہیں کرنے کی کی بتی رہا ہے میں یہ کے بعد

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم