WE News:
2026-06-03@03:54:16 GMT

بگرام کا ٹرکٖ

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دور صدارت ان کے گلے کو آگیا تھا۔ انہیں کسی چیز کا کچھ پتا ہی نہ تھا۔ ابھی حلف ہی نہ اٹھایا تھا کہ ان کے نامزد مشیر قومی سلامتی جنرل فلنگ ایف بی آئی کے ہتھے چڑھ گئے۔

صدارت شروع ہوئی تو جلد اپنی ہی ٹیم ان کا دھڑن تختہ کروانے پر تل گئی۔ بات مواخذے بلکہ مواخذوں تک پہنچ گئی۔ یوں اس دور صدارت کے بعد وہ خود ہی یہ کہتے پائے گئے کہ ہاں مجھے کچھ بھی سمجھ نہ آرہا تھا۔

یوں لگتا ہے اس دوسرے دور صدارت میں ان کی ایک مستقل حکمت عملی یہ ہے کہ خود کو ڈیڑھ شانڑاں باور کرایا جائے۔ اس کے لیے وہ طرح طرح کی مضحکہ خیز کوششیں کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر اس معاملے میں ان کی ایک مستقل کوشش یہ بھی رہتی ہے کہ لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جائے۔ اور جب وہ ٹرک کا پیچھا شروع کردیں تو یہ خود پتلی گلی سے کٹ لیتے ہیں۔

کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے اور گرین لینڈ کے حصول والا شوشہ ان کی ایسی ہی بتیاں تھیں۔ اسی ضمن میں ان کا نیا ٹرک افغانستان کا بگرام ایئربیس ہے۔ ہم اسے ٹرک کی بتی 2 وجوہات سے کہہ رہے ہیں۔ پہلی وجہ یورپ میں ہے اور دوسری ایشیا پیسفک میں۔

یہ بھی پڑھیں: دفاعی معاہدہ، سیاسی امکانات

پچھلے ڈیڑھ 2 ہفتوں کے دوران چار یورپین ممالک کی جانب سے یہ واویلا دیکھا گیا کہ رشین ڈرونز اور لڑاکا طیارے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

ان ممالک میں پولینڈ، اسٹونیا، رومانیہ اور ڈنمارک شامل ہیں۔ ان میں قدرے سیریس معاملہ پولینڈ کا لگتا تھا مگر وہ بھی یوں ڈرامہ ثابت ہوا کہ اپنی رینج کے لحاظ سے وہ ڈرونز رشیا سے پولینڈ پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ اور جب رشیا نے مشترکہ تحقیقات کی آفر کی تو پولینڈ انکار کرگیا۔ یورپین ممالک کے اس واویلے کی بابت آزاد عالمی ماہرین کی تقریبا متفقہ رائے یہ رہی کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یوکرین جنگ سے جوڑے رکھنے کی بھونڈی سی اسکیم ہے۔

اس رائے کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ حالیہ ٹویٹ کارفرما تھی جس میں انہوں نے روس پر مزید پابندیوں کا معاملہ اس بات سے مشروط کردیا تھا کہ یورپ پہلے رشین تیل خریدنا بند کرے۔

یہ ٹویٹ اس قدر جارحانہ تھی کہ ٹرمپ اس کے آخر میں یہ بھی کہہ گئے کہ اگر یورپ رشین تیل کی خریداری بند کرنے کو تیار نہیں تو پھر میرا وقت ضائع نہ کیا جائے۔

یہ وہی مجوزہ پابدیاں تھیں جن کے متعلق ٹرمپ نے روس کو پہلے پچاس پھر 10 دن کی مہلت دی تھی۔ ٹرمپ اور پیوٹن کی الاسکا والی ملاقات کا یہ نتیجہ تو دنیا دیکھ ہی رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کے بعد سے یوکرین کا ذکر بہت ہی کم کردیا ہے۔

یوں جب مذکورہ ٹویٹ بھی سامنے آگئی تو لگ بھگ طے ہوگیا کہ وہ یوکرین جنگ سے خود کو لاتعلق کر رہے ہیں۔ اسی لیے عالمی ماہرین کی پہلی رائے یہی بنی تھی کہ 4 یورپین ممالک کا فضائی حدود کی خلاف ورزی والا ڈرامہ درحقیقت امریکا کو یوکرین سے باندھے رکھنے کی کوشش ہے۔

مگر 3 روز قبل رائٹر نے ایک آرٹیکل کے ذریعے خبر دی ہے کہ سرحدی خلاف ورزی والے واویلے کے پیچھے اصل وجہ یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے ای یو کو آگاہ کیا ہے کہ وہ بالٹک ریاستوں سے امریکی اڈے ختم کرنے کی تیاری میں ہے۔ کیونکہ امریکا اب ان فضول خرچیوں کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔

رائٹر کا کہنا ہے جب سے یہ میسج برسلز پہنچا ہے سرحدی خلاف ورزیوں والے ڈرامے روز کا معمول بن گئے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یورپ میں اپنی فوجی موجودگی میں بڑی کمی لانے کی بات ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کئی بار کہی تھی۔ اس معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال یہ ہے کہ سوویت یونین واقعی خطرہ تھا۔ لیکن روس سے یورپ کو کوئی خطرہ نہیں۔ وہ تو تیس سال قبل نیٹو ممبرشپ بھی مانگ رہا تھا جو ہم نے نہیں دی۔

گویا یورپ میں یہ اندیشہ پہلے ہی موجود تھا کہ ٹرمپ وہاں امریکی فوج کی تعداد میں بڑی کمی کرسکتے ہیں۔ ایسے میں فی الحال اگرچہ صرف 3 بالٹک ریاستوں سے امریکا کی فوجی موجودگی ختم کرنے کی بات ہوئی ہے مگر امکان یہی ہے کہ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو بات صرف بالٹک ریاستوں تک رہے گی نہیں۔

یوں گویا یورپین ممالک کا سرحدی خلاف ورزی والا واویلا یوکرین سے نہیں جڑا بلکہ یہ یورپین یونین کا اپنا معاملہ ہے۔ اور یہی ہے یورپ میں موجود وہ وجہ جس کے تحت ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئربیس والا شور محض ٹرک کی بتی لگاتا ہے۔

ایشیا پیسفک سے جڑی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوج اور سی آئی اے کے سابق افسران انٹرویوز ہی نہیں بلکہ اپنے لکھے تجزیوں میں بھی یہ بات کر رہے ہیں کہ امریکا نے اچانک ایشیا پیسفک میں بھی فوجی موجودگی کم کرنی شروع کردی ہے۔ اس حوالے سے جنوبی کوریا اور جاپان کا خاص طور پر ذکر آیا ہے۔

جنوبی کوریا نے تو اس کی صاف تردید کی ہے لیکن پینٹاگون کی جانب سے معنی خیز تردید آئی۔ کہا گیا ’ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘ الفاظ کا یہ چناؤ صاف بتا رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ چل رہا ہے۔ جاپان والے معاملے میں تو تردید بھی اب تک نہیں آئی۔ جاپانی جزیرے اوکی ناوا سے 9000 یو ایس میرین کم کرنے کا پلان بتایا جا رہا ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے 4000 اب تک وہاں سے نکالے بھی جا چکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان اور کوریا دونوں کو مبینہ طور پر بتایا یہ گیا ہے کہ یہ فوجی گوام کے امریکی بیس پر منتقل کئے جا رہے ہیں جو پیسفک میں ہی واقع ہے۔

مزید پڑھیے: چارلی کرک کا قتل

لیکن ریٹائرڈ امریکی افسران کا کہنا ہے کہ یہ ان ممالک کی تسلی کے لئے کہا گیا ہے۔ فوجیوں کو گوام پہنچانے کے بعد اگلے مرحلے میں امریکا پہنچایا جا رہا ہے۔

ان ریٹائرڈ امریکی افسران کا کہنا ہے کہ چین کو گھیر نے کی بچی کھچی امیدیں بھی اس کی حالیہ وکٹری ڈے پریڈ سے دم توڑ گئی ہیں۔ اس پریڈ کے بعد امریکا اس معاملے میں یکسو ہوچکا کہ چین کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکتا۔ لہٰذا ایشیا پیسفک میں فوجی موجودگی کم کرنا ہی دانشمندی ہے۔ ان افسران کا کہنا ہے کہ امریکا اب بس بر اعظم امریکا پر ہی فوکسڈ رہنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس کی معاشی و سیاسی ہی نہیں بلکہ عسکری ساکھ بھی اب بڑے پنگے لینے والی نہیں رہی۔

اس پورے پس منظر میں یہ سوال غیر معمولی ہوجاتا ہے کہ اگر امریکا یورپ اور ایشیا پیسفک سے ہی اپنی فوجیں کم کر رہا ہے۔ بعض اڈے بھی بند کرنے کی تیاری میں ہے تو بگرام والے ایئربیس کا اس نے اچار ڈالنا ہے؟

اگر وہ وہاں سے چین کے خلاف کچھ کرنے کی سکت رکھتا تو افغانستان سے انخلاء ہی کیوں کرتا ؟ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دوحہ مذاکرات میں یہ کوشش ہوئی تھی کہ طالبان کو کچھ امریکی ملٹری بیسز برقرار رکھنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں: بڑا جی ڈی پی، چھوٹی اوقات

مگر جب وہ ایک بیس بھی دینے کو تیار نہ ہوئے تو معاہدہ مکمل انخلاء کا ہی ہوا۔ سو ہمیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ واقعی بگرام ایئربیس حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بگرام بس ایک ٹرک ہے جس کی بتی کے پیچھے دوڑنا دانشمندی نہ ہوگی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

امریکا صدر ٹرمپ یورپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا یورپ فوجی موجودگی یورپین ممالک معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے پیسفک میں خلاف ورزی یورپ میں کے پیچھے یہ ہے کہ رہے ہیں کرنے کی کی بتی رہا ہے میں یہ کے بعد

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام