کیا پاکستانی یورپ جانے کا خواب بیلاروس میں تلاش کر سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 ستمبر 2025ء) اسلام آباد کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے شان سہیل بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند ہیں۔ جب 30 سالہ شان کو معلوم ہوا کہ بیلاروس میں کام کرنے کا امکان ہے تو انہوں نے تعمیرات کے شعبے میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے کئی لیبر ایجنٹس سے رابطہ کیا۔
انہوں نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا، 'میں بہتر آمدنی اور بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک جانا چاہتا ہوں۔
‘تاہم، شان کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ اس عمل کا آغاز کیسے کریں اور درخواست کہاں بھیجیں۔
لوکاشینکو کو پاکستان سے ڈیڑھ لاکھ تک "اسپیشلسٹس" درکارپچیس کروڑ سے زائد آبادی والا پاکستان کئی برسوں سے معاشی بحران کا شکار ہے۔
(جاری ہے)
اعداد و شمار کے مطابق 30 فیصد سے زائد یونیورسٹی گریجویٹس بے روزگار ہیں۔
دوسری جانب، یورپ کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے کے باوجود بیلاروس کو مزدوروں کی سخت ضرورت ہے۔بیلاروس کی آبادی 90 لاکھ سے بھی کم ہے اور مسلسل سکڑ رہی ہے، کیونکہ 2020 کے ہنگاموں کے بعد لاکھوں افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔
بیلاروسی حکام نے سب سے پہلے اپریل 2025 میں اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستانی مزدوروں کو مدعو کریں گے، جب پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے منسک کا دورہ کیا تھا۔
شریف سے ملاقات کے بعد بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے پریس کو بتایا کہ پاکستان "ایک لاکھ، شاید ایک لاکھ پچیس ہزار یا ڈیڑھ لاکھ اسپیشلسٹس" بھیجے گا۔
انہوں نے کہا، ''میں نے اپنے دوست، پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ مختلف شعبوں سے اسپیشلسٹس جلد بھیجے جائیں گے۔ یہ وہ شعبے ہوں گے جن کی ہمیں ضرورت ہوگی، اور پاکستانی حکام ہمیں ایسے افراد منتخب کرنے میں مدد کریں گے۔
‘‘اگست میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں اپنے بیلاروسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد اس منصوبے کی تصدیق کی کہ ہزاروں پاکستانی بیلاروس میں ملازمت کے لیے بھیجے جائیں گے۔
پاکستانی پہلے ہی بیلاروس پہنچ رہے ہیںپاکستانیوں کو بیلاروس میں ملازمت دینے کا پروگرام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، اگرچہ ابھی تک اس پیمانے پر نہیں جیسا کہ لوکاشینکو نے اعلان کیا تھا۔
بیلاروس کو اپنی مینوفیکچرنگ، تعمیرات اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے ہنرمند کارکنوں کی ضرورت ہے۔پاکستانی وزارت برائے اوورسیز پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے ایک اہلکار نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''مزدوروں کا انتخاب درخواست دینے والے ملک کی مقرر کردہ شرائط کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔‘‘
مئی 2025 تک تقریباً 200 پاکستانی کارکن بیلاروس میں ملازم تھے۔
اہلکار کے مطابق، ''عام طور پر جب کوئی غیر ملکی حکومت مزدوروں کی درخواست کرتی ہے تو وزارت اس عمل کو منظم کرتی ہے۔‘‘
غیر ملکی کارکنوں کے لیے بیلاروس کیوں پرکشش ہے؟پاکستان کے لیے اپنے شہریوں کو بیرونِ ملک بھیجنا اگرچہ عملی فیصلہ ہے اور اس میں برین ڈرین کا خطرہ بھی ہے۔ لیکن یہ اسکیم جنوبی ایشیائی ملک کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے نوجوانوں میں بیروزگاری کم ہو گی اور بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوگا۔
پاکستان میں اوسط تنخواہ 300 ڈالر ماہانہ سے بھی کم ہے،اگرچہ آمدنی تعلیم، ملازمت اور علاقے کے لحاظ سے یہ مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی لیے بڑی تعداد میں کارکن بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند ہیں۔
اگرچہ بیلاروس کو یورپ کے غریب ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن وہاں کی اوسط تنخواہیں پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ جولائی میں یہ تقریباً 800 ڈالر ماہانہ تھیں۔
یقیناً غیر ملکی کارکنوں کو رہائش کرایہ پر لینی ہوگی اور ممکنہ طور پر تربیت کے اخراجات بھی برداشت کرنے ہوں گے، لیکن وہ پھر بھی پاکستان کے زیادہ تر ہنرمند ملازمین سے زیادہ کمائیں گے۔تاہم، پاکستانیوں کی نظر میں بیلاروس کی اصل کشش مالی نہیں بلکہ جغرافیائی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہر عظیم خالد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کے پیش نظر، بہت سے افراد فطری طور پر بیرون ملک بہتر مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
ان کے لیے یورپی ملک میں کم ہنر اور ہنر مند دونوں قسم کے ویزے کی دستیابی بڑی کشش رکھتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ''پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ یورپ میں کام کرنے سے زیادہ آمدنی اور بہتر معیارِ زندگی حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے یہ قدرتی بات ہے کہ لوگ دلچسپی لیں گے۔‘‘
کیا یورپ میں ملازمتیں "بیچی" جا رہی ہیں؟اس دلچسپی کے ساتھ یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ بیلاروس میں ملازمتوں کے مواقع اقربا پروری یا کرپشن کی بنیاد پر تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی امیگریشن کے ماہر وکلاء خبردار کرتے ہیں کہ اکثر اوقات بیرون ملک ملازمتیں لائسنس یافتہ لیبر ایجنٹس کو "بیچ" دی جاتی ہیں۔امیگریشن وکیل اسامہ ملک نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''یہ ایجنٹس پھر ان ورک کنٹریکٹس کو ان افراد کو دوبارہ بیچتے ہیں جو ملک چھوڑنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔‘‘
ملک کے مطابق، اس عمل کے نتیجے میں کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ پاکستانی کارکن میزبان ملک کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔
انہوں نے کہا، ''مثال کے طور پر، ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جب پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کئی بار کوشش کے باوجود دیگر ممالک کے میڈیکل پریکٹس امتحانات پاس کرنے میں ناکام رہے۔‘‘
ملک کی رائے میں پاکستانی حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ لیبر کنٹریکٹس فروخت نہ ہوں اور صرف اہل ترین ماہرین کو ہی منتخب کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا، ''اگر ضرورت ہو تو کارکنوں کو بیلاروس بھیجنے سے پہلے اضافی تربیت فراہم کی جانی چاہیے۔
اس کے علاوہ، تمام منتخب امیدواروں کے ڈپلومے اور تعلیمی اسناد کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔‘‘ ’تندور‘ سے نکل کر ’آگ‘ میں؟بیلاروس ایک ایسا ملک ہے جو مستقل سیاسی بحران کا شکار ہے۔ یہ روس کی یوکرین جنگ میں شمولیت اور لوکاشینکو حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پابندیوں کے تحت ہے۔
یہ خبر کہ پاکستانی کارکن وہاں بھیجے جائیں گے، ہجرت کے ماہرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے۔
پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) نے خبردار کیا ہے کہ ہجرت کی اس لہر سے نہ صرف خود تارکینِ وطن بلکہ ان کے اہل خانہ اور اپنے گھروں پر موجود کمیونٹیز کے لیے بھی سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ایف آئی اے کے ایک سینئر اہلکار نے کہا، ''ہمیں غیر قانونی ہجرت کے ایک اور بحران کے لیے تیار رہنا چاہیے، جو بیلاروس کی جانب بڑے پیمانے پر انخلا کے نتیجے میں جنم لے سکتا ہے۔
‘‘ کیا پاکستانی کارکن یورپی یونین کا رخ کریں گے؟ادھر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیلاروس، جو کہ یورپی یونین کا رکن ملک نہیں ہے، میں موجود پاکستانی کارکن مغرب کی جانب، یورپی یونین کے امیر ممالک میں جانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں پولینڈ اور دیگر یورپی ممالک بارہا منسک پر یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ تارکین وطن کو جان بوجھ کر سرحد پار بھیجتا ہے تاکہ یورپی یونین کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔
جسے مغربی دنیا روس اور بیلاروس کی جانب سے "ہائبرڈ وار فیئر" قرار دیتی ہے۔بین الاقوامی امور کے ماہر عظیم خالد نے کہا، ''یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ کچھ افراد اس موقع کو یورپ کے دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''میری رائے میں یہی ایک اور وجہ ہے جس کی بنا پر پاکستانی نوجوان بیلاروس میں کام کرنے کے موقع کو جوش و خروش سے قبول کریں گے۔
لہٰذا بیلاروس اور پاکستانی حکام دونوں کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ ایک منظم طریقہ کار نافذ کریں۔ انہیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ منتخب ہونے والے افراد واقعی جائز روزگار کے مواقع کے خواہاں ہیں، تاکہ پروگرام کے غلط استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔‘‘لیکن ابھی تک ایسی کوئی ضمانتیں عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستانی کارکن بیلاروس میں یورپی یونین میں ملازمت بیلاروس کی پاکستان کے کام کرنے انہوں نے کو بتایا کریں گے ہیں کہ کیا جا نے کہا کے لیے
پڑھیں:
نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔
نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔
پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثراتہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
امریکی حکومت کا مؤقفامریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔
تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل
لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟
اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا