City 42:
2026-07-24@04:38:19 GMT

محسن نقوی کا چیلنج، عمران خان نے چپ سادھ لی

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

سٹی42: وزیر داخلہ محسن نقوی کے چلینج کا عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اٹھارہ گھنٹے گزر گئے، عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اپنے دعوے کو چیلنج کئے جانے کے بعد چپ سادھ لی۔

محسن نقوی نے کہا تھاکہ عمران خان کو کبھی بیرون ملک جانے کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔ محسن نقوی نے چیلنج کیا تھاکہ کسی ایک آدمی کا نام بتا دین  جو ایسی کوئی پیشکش لے کر عمران خان کے پاس کبھی بھی گیا ہو۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ  چیلنج  کل 25 ستمبر کو  رات سوا نو بجے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا تھا۔ اس کا اٹھارہ گھنٹے میں کوئی جواب نہیں آیا، عمران خان اور ان کے کیمپ میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ 

مجسٹریٹ کافوڈاتھارٹی کی قبضےمیں لی گئی اشیاملزم کوسپرداری پردینےکاآرڈرکالعدم قرار

عمران خان کا دعوی اور اس کا پس منظر: عمران خان مالی بدعنوانیوں کے سنگین الزامات میں کئی  مقدمات کے ساتھ 9 مئی  2023 کو ریاستی اداروں پر حملوں، بغاوت کروانے کی سازش کے مقدمات میں ملوث ہیں۔ انہیں کرپشن کے کئی مقدمات کی سماعت کے بعد  قید کی سزائیں ہو چکی ہیں، کچھ مقدمات کی سزائین اعلیٰ عدالتوں میں اپیل ہونے کے بعد معطل ہو گئیں یا ختم ہو گئیں،  190 ملین پاؤنڈ کرپشن کے مقدمہ میں انہیں  14 سال قید کی سزا ہوئی جس کے سبب وہ اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔ ان پر نو مئی 2023 کو بغاوت اور ریاستی اداروں پر حملے کروانے کے سنگین جرائم کے مقدمات کی سماعتین ابھی شروع ہی ہوئی ہیں۔

ایف آئی اے کراچی زون کی کارروائی ؛حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزم گرفتار 

عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے بار بار یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ حکومت یا اسٹیبلشمنٹ انہیں "خاموش رہنے" کے عوض پاکستان سے  باہر بھیجنے کی پیشکشیں کرتے ہیں اور وہ ان پیشکشوں کو قبول نہیں کر رہے بلکہ  خود پر بنائے گئے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عمران خان کی طرف سے یہ دعویٰ ایک بار پھر  24 ستمبر کو عمران خان کے ایکس پر بنے اکاؤنٹ سے جسے وہ خود آپریٹ نہیں کرتے، سامنے آیا ہے۔ ان کے کسی نمائندہ نے ایک پوسٹ لکھی ہے جس میں تمام ہی باتیں ریکارڈ پر موجود حقائق کے منافی لکھی ہیں اور ان باتوں میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ پاکستان کی حکومت نے عمران خان کو پاکستان سے باہر چلے جانے کی پیشکش ایک بار پھر کی ہے۔

پنجاب حکومت سموگ کا مقابلہ کرنےکیلیے تیار؛ اینٹی سموگ گنز لاہور پہنچ گئیں

وزیر داخلہ محسن نقوی نےبانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے کسی نام نہاد ڈیل کی پیشکش کئے جانے سے متعلق اس  بیان پر یہ براہ راست سوال پوچھ لیا کہ کہ اس کا نام بتائیں جس نے ایسی کوئی پیش کش کی۔ 

سب دعویٰ جھوٹ!  "لوگ پہلے ہی آپ کے جھوٹ سے بیزار ہیں۔"

 محسن نقوی نے  ایکس پر عمران خان کی پوسٹ کو کوٹ کر کے اپنی پوسٹ میںیہ براہ راست سوال پوچھا   کیا آپ صرف ایک شخص کا نام بتا سکتے ہیں جو آپ کے پاس آفر لے کر آیا؟کہ ہم آپ کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کیلئے تیار ہیں۔صرف ایک نام۔

 اوپن اے آئی کا نیا فیچر "پلس" متعارف

 محسن نقوی نے واضح الفاظ میں بتایا کہ سب دعویٰ جھوٹ ہے اور لکھا۔ "لوگ پہلے ہی آپ کے جھوٹ سے بیزار ہیں۔"

Can you name just one person who came to you with the offer, saying we are ready to allow you to leave the country ? Just one name? People are already sick of your blatant lies https://t.

co/qE7vU1Hsdl

— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) September 25, 2025

  بانی کی اس پوسٹ میں یہ بھی  حقائق کے منافی بیان کیا گیا کہ" پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔ "

پیپلز پارٹی سیلاب پر سیاست نہیں کرتی: شرجیل میمن

اس ضمن میں عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد خان کا عدالت میں دیا ہوا یہ بیان سامنے آ چکا ہے جس مین انہوں نے حلف کے ساتھ یہ بتایا کہ عمران خان کے حکم پر تحفے توشہ خانہ میں جمع نہییں کروائے گئے تھے۔ یہ بیان مقدمہ کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔

 بریگیڈئیر احمد کا بیان:

۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد نے بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کروانے کا اعتراف کیا ۔ کہا بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہ کروانے کی  ہدایت کی تھی۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد مئی 2020 سے اپریل 2022 تک وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ 2021 میں دورہ سعودی عرب کے دوران بھی وہ سابق وزیراعظم کے ساتھ تھے۔

سابق ملٹری سیکرٹری کے مطابق بلغاری جیولری سیٹ سعودی ولی عہد نے تحفے میں دیا تھا۔ تحائف میں عود کی بوتلیں،زیتون کا تیل، کھجور اور کتاب بھی شامل تھی۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروانے سے روکا تھا۔ تمام تحائف کی سرکاری پروٹوکول کے مطابق تصاویر بنائی گئیں۔

بیان کے مطابق سعودی تحائف پر وزارت خارجہ نے وزیراعظم آفس کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔ سعودی تحائف کی مالیت 29 لاکھ  ساڑھے 14 ہزار روپے لگائی گئی۔  سابق ملٹری سیکرٹری کے مطابق سعودی ولی عہد سے بشریٰ بی بی کو ملنے  والےتحائف کے عوض رقم جمع کروائی گئی۔ توشہ خانہ سیکشن کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں آیا۔ تحائف کی مالیت کا تعین اور توشہ خانہ کے ساتھ خط و کتابت بانی کے حکم پر ہوئی۔

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: عمران خان اور ان کے توشہ خانہ میں جمع ملٹری سیکرٹری محسن نقوی نے عمران خان کے کی طرف سے کے مطابق نہیں کر کے ساتھ

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری