جی ایچ کیو حملہ کیس؛ عمران خان کے وکلا کی کیس التوا کی نئی درخواست بھی خارج
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
راولپنڈی:
جی ایچ کیو حملہ کیس میں عدالت نے عمران خان کے وکلا کی جانب سے التوا کی نئی درخواست بھی خارج کردی۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سید امجد علی شاہ کے روبرو جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سرکار کے 3 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے گئے جب کہ عدالت نے وکلائے صفائی کی جانب سے کیس کے التوا کی درخواست خارج کردی جب کہ وکلائے صفائی کی جانب سے 8گواہان کو دوبارہ طلب کرنے سے متعلق دائر درخواست پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کر دیا گیا ۔
کیس کے 71 گواہ غیر ضروری قرار
عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ تاریخ پر آخری 3 گواہوں کو بھی طلب کرلیا جب کہ کیس کے 71 گواہان غیر ضروری قرار دے کر فارغ کر دیے گئے۔ واضح رہے کہ اب تک 44 گواہان کے بیان ریکارڈ ہوئے ہیں اور 13 پر تاحال جرح نہیں ہو سکی۔
عدالت میں آج کی سماعت کے دوران گواہان نے گرفتار ملزمان سے برآمد ڈنڈے، جھنڈے، پولیس ہیلمٹ، لائٹر اور فوجی مجسمے کے ٹکڑے عدالت پیش کیے۔ گواہ انسپکٹر عصمت کمال نے چکری انٹرچینج پر پی ٹی آئی قیادت کی میٹنگ سے متعلق شواہد عدالت پیش کیے۔
قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک کارروائی کو ایک بار پھر چیلنج کیا اور آج کی کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست دی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک وڈیو لنک پٹیشن پر ہائی کورٹ فیصلہ نہیں کرتی، تب تک سماعت ملتوی کی جائے ۔
التوا کا مطالبہ تاخیری حربہ ہے، پراسیکیوٹر
دورانِ سماعت پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ تاخیری حربہ ہے، وکلائے صفائی پہلے ہی بائیکاٹ کر چکے ہیں، ان کی یہ درخواست قابل سماعت ہی نہیں۔ عدالت درخواست خارج کرے اور 3 گواہان موجود ہیں، ان کے بیان ریکارڈ کیے جائیں۔
واضح رہے کہ آج ہونے والی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے عمران خان کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کی کارروائی کو ایک بار پھر چیلنج کیا اور اس سلسلے میں تیسری درخواست دائر کی گئی تھی۔
گزشتہ سماعت میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عمران خان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس موقع پر آج سرکاری گواہوں کے ساتھ ساتھ تفتیشی ٹیم بھی مکمل ریکارڈ کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھی۔
ملزمان کی حاضری انتہائی کم
سماعت کے دوران پی ٹی آئی پشاور جلسے کی وجہ سے ملزمان کی حاضری انتہائی کم رہی جب کہ ویڈیو لنک بھی فعال نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے سماعت میں وقفہ کیا اور سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کو 11 بجے تک واٹس ایپ کال، ویڈیو لنک فعال کرنے کا حکم دیا۔ دریں اثنا 26 نومبر کے 8 کیسز میں کرنل اجمل صابر کی عبوری ضمانت میں 7 اکتوبر تک توسیع کردی گئی۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات
اس موقع پر عدالتی حکم پر کچہری کے اندر اور باہر سخت ترین سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ نصب اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جب کہ پریزن وین بھی عدالت کے باہر منگوا لی گئی تھی۔
عدالت میں سماعت کے موقع پر سرکاری پراسیکیوٹر ظہیر شاہ، نوید ملک اور اکرام امین منہاس سمیت وکلائے صفائی ملک فیصل، حسنین سنبل اور دیگر عدالت پہنچے تھے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے سماعت سے قبل مختصر گفتگو میں کہا کہ اس کیس میں ان کے مؤکل نے خاص ہدایات دی ہیں اور جج صاحب کے آنے کے بعد ایک بڑی خبر سامنے لائیں گے۔
واٹس ائپ ٹرائل پر اعتراض
واضح رہے کہ وکلائے صفائی نے ٹرائل کے طریقۂ کار پر اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والا واٹس ایپ ٹرائل غیر منصفانہ ہے، کیونکہ ملزم نہ اپنے وکیل کو دیکھ سکتا ہے اور نہ گواہ کو۔ وکلا کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کو یا تو عدالت میں پیش کیا جائے یا ٹرائل جیل کے اندر اوپن کورٹ میں کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق کیس میں مجموعی طور پر 119 ملزمان اور 119 گواہان شامل ہیں، اب تک 41 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں جبکہ 12 گواہوں پر جرح تاحال باقی ہے۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو مستقل حاضری سے استثنا دیا گیا ہے، تاہم وہ آج حاضری لگا کر واپس روانہ ہو گئے۔
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو ویڈیو لنک سماعت کے لیے تمام انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے۔
دہشتگرد فوج اور پوری قوم کے دشمن ہیں، اعظم سواتی
پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عدالت میں پیش ہو گئے، جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہماری یہاں تاریخ بھی ہے اور اسلام آباد میں بھی ہے، خیریت سے ہو جائے تو ہم پشاور جلسے میں جائیں گے ، یہ پرامن اور ہماری آزادی کا جلسہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہماری فوج کے دشمن ہیں، ہمارے دشمن ہیں اور پوری قوم کے دشمن ہیں، ان کے آگے نہ ہماری پولیس جھکے گی اور نہ فوج۔ افواج پاکستان، پولیس اور عوام کے حوصلے بلند ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان جی ایچ کیو حملہ کیس وکلائے صفائی عدالت میں ویڈیو لنک پی ٹی آئی عدالت نے سماعت کے دشمن ہیں کیس میں کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔