عالمی چیلنجزکے باوجود ہمیں اقوام متحدہ کے نظریات کو برقرار رکھنا ہوگا، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 30 September, 2025 سب نیوز

بیجنگ : گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80 واں اعلیٰ سطحی اجلاس نیویارک میں منعقد ہوا۔ اس وقت دنیا افراتفری اور تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔’’اقوام متحدہ کہاں جا رہی ہے‘‘پر ہونے والی بحث کے پیچھے عالمی گورننس کے بارے میں دو نظریات کا مقابلہ ہے۔ ایک خود مختاری کی مساوات، باہمی احترام، کثیرالجہتی ،بین الاقوامی قانون کی حکمرانی ،مشاورت اورتعاون کے ذریعے ترقی کرنے کی وکالت کرتا ہے جبکہ دوسرا طاقت ، یکطرفہ پسندی اور جنگل کے قانون پر عمل کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے بانی اراکین میں سے ایک کے طور پر، چین نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی گلوبل گورننس کی کوششوں کی مضبوطی سے حمایت کی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے تھیانجن سربراہی اجلاس میں چینی صدر شی جن پھنگ نے پہلی بار گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیا، جو ایک زیادہ منصفانہ اور معقول گلوبل گورننس سسٹم کی تعمیر کے لیے درست سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے منعقدہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاس میں صدر شی نے اپنے ورچول خطاب میں چین کی قومی سطح پر مقرر کردہ نئی شراکت (NDCs) کے اہداف کا اعلان کیا۔

اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے عام مباحثے میں، چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے چین-اقوام متحدہ گلوبل ساؤتھ ترقیاتی میکانزم کے قیام کا اعلان بھی کیا۔قابل تحسین بات یہ ہے کہ چین نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ اور مستقبل کے ڈبلیو ٹی او مذاکرات میں نئے خصوصی سلوک کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ آنے والے وقت میں چین چار گلوبل انیشی ایٹوز پر عمل درآمد جاری رکھے گا، بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دے گا اور مزید ہم آہنگ اور خوبصورت دنیا کی تعمیر کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھےگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹوٹے ہوئے عالمی نظام کو جوڑنے کی کوشش: ایک منصفانہ عالمی نظام کے لیے چینی صدر کا وژن اگلی خبرفلسطین میں امن کیلئے مسلم ممالک کی جانب سے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم حماس نے منصوبہ رد کیا تو اسرائیل اپنا کام مکمل کرےگا: نیتن یاہو کی دھمکی اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید کا دورہ قاہرہ، مصری صدر السیسی سے ملاقات نیتن یاہو نے دوحہ میں اسرائیلی حملے پر قطر سے معافی مانگ لی اسرائیلی وزیر اعظم وائٹ ہاوس پہنچ گئے؛ ٹرمپ غزہ جنگ بندی معاہدے کیلیے پرامید افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کردی امریکا اور اسرائیل، ٹرمپ کے غزہ جنگ ختم کرنے کے منصوبے پر معاہدے کے قریب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت