لندن ،گاندھی کے مجسمے کی توہین، بھارت اور مودی مخالف نعرے درج
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن:۔ برطانوی دارالحکومت لندن میں مہاتما گاندھی کے مجسمے پر بھارت اور نریندر مودی کے خلاف نعرے درج کردیئے گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق لندن کے ٹیوسٹاک اسکوائر میں مہاتما گاندھی کے مجسمے پر مخالفت پر مبنی نعرے لکھنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کی بھارتی ہائی کمیشن نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، یہ واقعہ سالانہ گاندھی جینتی کی تقریبات سے چند روز قبل پیش آیا ہے جو 2 اکتوبر کو اِسی مقام پر منائی جاتی ہیں۔
مہاتما گاندھی کا مشہور کانسی کا مجسمہ جو انہیں ایک بیٹھے ہوئے مراقبے کی حالت میں پیش کرتا ہے، اس کے پیندے پر مخالف اور مودی مخالف نعرے لکھے گئے ہیں، بھارتی ہائی کمیشن نے اس توہین کی فوری اطلاع مقامی حکام کو دی ہے۔
بھارتی ہائی کمیشن نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ لندن میں بھارتی ہائی کمیشن گاندھی جی کے مجسمے کے ساتھ اس شرمناک بدتمیزی پر گہرا دکھ ہوا ہے جس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ بھارتی ہائی کمیشن نے مزید کہا کہ یہ محض صرف بدتمیزی نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کی میراث پر ایک پُرتشدد حملہ ہے، ہم نے مقامی حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور ہماری ٹیم مجسمے کی بحالی کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
گاندھی جینتی، جسے اقوام متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی دن عدم تشدد کے طور پر منایا جاتا ہے، ہر سال 2 اکتوبر کو لندن کے اس مجسمے پر پھول رکھنے اور گاندھی کے پسندیدہ بھجنوں کی صورت میں عقیدت کے اظہار کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔ یہ کانسی کا مجسمہ، جسے انڈیا لیگ کی مدد سے تیار کیا گیا تھا، اسے1968 میں ٹیوسٹاک اسکوائر میں نصب کیا گیا تھا۔ میٹروپولیٹن پولیس کے مقامی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی ہائی کمیشن نے گاندھی کے کے مجسمے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔