مودی راج؛ بھارت میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بلند، عوام بے یار و مددگار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
بی جے پی کے کٹھ پتلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے، جس کے باعث عوام بے یار و مددگار ہوگئے ہیں۔
نام نہاد "وشو گروبھارت" میں شہریوں کا استحصال معمول بن چکا ہے اور نااہل مودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکمرانی میں بڑھتے قتل، زیادتی، اغوا اور چوری کے واقعات بھارت میں سماجی بحران کا پیش خیمہ بن رہے ہیں۔
بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں جرائم کی شرح میں 7.
رپورت میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک لاکھ 81ہزار سے زائد کیسز جعل سازی ، دھوکا دہی ، فراڈ اور بلیک میلنگ سے متعلق ہیں ۔ بھارت میں اغوا کے7لاکھ 9ہزار880سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ شادی پر مجبور کرنے کے لیے نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرنے کے 14,637 واقعات ہوئے۔
اسی طرح بھارت میں معاشی جرائم کے 2 لاکھ 4 ہزار 973 کیس درج ہوئے ۔ بچوں کے خلاف جرائم میں 9.2 فیصد اضافہ ہوا اور 1 لاکھ 77 ہزار سے زائد کیس درج ہوئے جب کہ 40ہزار سے زائد بچے اور بچیاں جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم کا شکار بنے۔
اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اس صورتحال کو شرمناک قرار دیا اور حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ کانگریس نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ دن دیہاڑے قتل، گینگ وار ، ڈکیتی، اغوا اور تاوان کی مانگ ریاست کی پہچان بن چکی ہے۔
انتہا پسند مودی کی سرپرستی میں ریاستی ادارے مجرموں کی پشت پناہی کرنے میں مصروف ہیں ۔ نااہل مودی کی ناقص حکمرانی اور اقدامات نے بھارتی عوام کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت میں
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔