سیلاب سے نقصانات کے لیے فی الحال عالمی امداد نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، وفاقی وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
پشاور:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سیلاب کے نقصانات سے متعلق فیصلہ کیا ہے کہ فوراً امداد نہیں مانگیں گے، کوشش ہے کہ پہلے سیلاب متاثرہ علاقوں میں اپنے زور بازو معاملات ٹھیک کریں۔
پشاور میں پاکستان بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت سیلاب کے دوران عالمی امداد کے لیے نہیں جائیں گے، جب مکمل نقصانات کا اندازہ ہو تب عالمی برادری کے پاس تعمیر نو کے لیے رجوع کریں گے۔ سیلاب میں صوبوں نے امدادی اور بحالی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیر اعظم اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور دیگر وفود نے نیویارک، بیجنگ اور دیگر ممالک کے دورے کیے۔ ان دوروں سے ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ ملے گا اور معشیت مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تین عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے ہمیں اَپ گریڈ کیا ہے تو اس سے کمرشل بینکوں اور عالمی اداروں کے ساتھ فنڈز کے معاملات میں مدد ملے گی۔ اگر ہم نے اپنے وسائل پر صحیح کام کیا تو 2047 تک عالمی بینک کے مطابق تین ٹریلین معشیت بن سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کنٹرول ہو تو آگے جا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے 300 روزہ پلان بنانے کا کہا ہے، جس پر وزارت خزانہ، وزرات موسمیاتی تبدیلی اور دیگر ادارے کام کر رہے ہیں۔ معاشی استحکام کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 38بلین ڈالر آئے اور ان شاء اللہ رواں سال 41 ارب ڈالر زرمبادلہ آنے کی توقع ہے، ان 38 بلین روپے کے ریمیٹینس کو معیشت میں شامل کرنا ہے، یورو بانڈ 1.
محمد اورنگزیب نے کہا کہ دنیا کی معیشت میں پاکستان کا کیا کردار ہونا چاہیے، اس میں پرائیویٹ سیکٹر بہت اہمیت کا حامل ہے جس سے ملک میں معاشی استحکام آتا ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لے کر جانا ہے اور اس میں ٹیکس اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یورو بانڈ کی مد میں اپریل میں ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر ادا کریں گے، رواں سال فروری ریٹ پچھلے سال کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے۔ پینڈا بانڈ کا اجراء بھی کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی ترقی میں نجی سیکٹر کی کارکردگی اور معاشی اصلاحات ضروری ہیں، حکومت پرائیویٹ سیکٹر کو آگے لیکر جانے کے لیے ریفارم ڈھانچے کی بہتری پر کام کر رہی ہے۔ آئندہ سال کے بجٹ میں انرجی ریفارم اور گیسولین ریفارم سمیت متعدد ریفارم لا رہے ہیں ۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سوال کیا جاتا ہے پی ایس ڈی پی ایک ٹریلین ہے اس سے کس طرح ترقی آئے گی، اس سال پی ایس ڈی پی کا حجم چار اعشاریہ تین ٹریلین ہے، ترقیاتی بجٹ میں فیڈریشن اور صوبوں کو ملا کر دیکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس بڑھانے پر کام کر رہے ہیں، ٹیکس پالیسی کا فنکشن اب ایف بی آر کے پاس نہیں ہے، اب ایف بی آر کا کام صرف ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا۔ اگلے سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سے دیا جائے گا اور ٹیکس پالیسی آفس کا بجٹ مستحکم بجٹ ہوگا، 4اعشاریہ 3 ٹریلین روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ برآمدات کے بل بوتے پر ترقی کرنے کی پالیسی پر کام کر رہے ہیں، عوام ٹیکس بھریں گے تو ترقی ہوگی۔ ٹیکس پالیسی میں بہتری اور سرمایہ کار دوست بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پشاور میں پاکستان بزنس سمٹ میں ملکی و غیر ملکی کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی، گورنر خیبر پختونخوا اور وفاقی وزراء نے سمٹ سے خطاب کیا۔
بزنس سمٹ کا موضوعShaping What’s Next رکھا گیا ہے۔ پالیسی سازوں، صنعتکاروں اور عالمی ماہرین نے شرکت کی۔ سمٹ میں بینکاری، صنعت، موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر خصوصی مباحثے ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب ٹیکس پالیسی کر رہے ہیں نے کہا کہ انہوں نے کے لیے کام کر
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔