بھارت کے امیر ترین افراد کی تازہ فہرست میں ایک بار پھر مکیش امبانی 105 ارب ڈالر کی جائیداد کے ساتھ سب سے آگے نکل گئے لیکن سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ بالی وڈ کے کنگ خان، شاہ رخ خان بھی ارب پتی کلب میں شامل ہو گئے۔

ایم تھری ایم ہورن انڈیا رچ لسٹ 2025 میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کنگ خان کی دولت کا تخمینہ 1.4 بلین ڈالر (تقریباً 12,490 کروڑ روپے) لگایا گیا جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر دنیا کے امیر ترین انٹرٹینر بن گئے ہیں۔ 

یہ اعزاز انھیں بین الاقوامی ستاروں جیسے ٹیلر سوئفٹ (1.

3 بلین ڈالر)، آرنلڈ شوارزنیگر (1.2 بلین ڈالر)، جیری سائن فیلڈ (1.2 بلین ڈالر) اور سلینا گومز (720 ملین ڈالر) پر سبقت دلاتا ہے۔

شاہ رخ خان کی اس دولت کی وجہ ان کی پروڈکشن کمپنی ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ ہے جس نے چنئی ایکسپریس، رئیس اور پٹھان جیسی ہٹ فلمیں دیں۔

علاوہ ازیں کنگ خان کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے سربراہ بھی ہیں جو آئی پی ایل کی سب سے منافع بخش ٹیموں میں سے ایک ہے۔

شاہ رخ خان کے ممبئی کے پُرتعیش گھر منت کے علاوہ لندن، دبئی، بیورلی ہلز اور علی باغ میں بھی جائیدادیں ہیں۔

ان کے علاوہ اداکار کے پاس مہنگی اور قیمتی گاڑیوں کا قافلہ بھی ہے اور وہ  عالمی معیار کا VFX اسٹوڈیو بھی رکھتے ہیں۔

صرف شاہ رخ ہی نہیں بلکہ دیگر بالی ووڈ کے دیگر ستارے بھی اس فہرست لسٹ میں شامل ہیں جن میں ٹاپ پر شاہ رخ کے بعد جوہی چاولہ اور ریتک روشن ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ کی اس خبر پر تاحال شاہ رخ کا کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کسی مستند مالیاتی ادارے نے تصدیق کی ہے۔

قبل ازیں The Indian Express کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا وہ دنیا کے امیر ترین اداکاروں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں اور تب شاہ رخ خان کی مجموعی دولت تقریباً $876.5 ملین بتائی گئی تھی۔

The Indian Express Outlook Business کی ایک رپورٹ میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا تھا جب کہ ٹائمز انڈیا کا کہنا تھا کہ شاہ رخ نے برانڈز جیسے براد پٹ، جارج کلونی وغیرہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

TagsShowbiz News Urdu

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کے امیر ترین بلین ڈالر شاہ رخ

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی