کوٹری: مال بردار ٹرین کا انجن پٹڑی سے اتر گیا، کراچی جانے والی ٹرینیں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جامشورو: کوٹری ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک ریل حادثہ پیش آیا، جس میں ایک مال بردار ٹرین کا انجن اچانک پٹڑی سے اتر گیا۔
حادثے کے بعد کراچی جانے والا ڈاؤن ٹریک مکمل طور پر معطل ہوگیا جس کے باعث درجنوں مسافر گاڑیاں متاثر ہوئیں۔ ریلوے حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انجن کو ٹرین سے علیحدہ کر کے بحالی کا کام شروع کیا۔
ریلوے ذرائع کے مطابق ڈاؤن ٹریک بند ہونے کے بعد حیدرآباد اسٹیشن پر کئی مسافر ٹرینیں روک لی گئیں، جن میں خیبر میل ایکسپریس، ذکریا ایکسپریس اور دیگر شامل ہیں۔ اسی دوران پنجاب سے کراچی آنے والی متعدد گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں اور انہیں عارضی طور پر حیدرآباد اسٹیشن پر کھڑا کیا گیا۔
حادثے کے مقام پر کئی گھنٹوں بعد کرین کی مدد سے انجن کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھانے کا عمل شروع کیا گیا۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انجن کو ہٹا کر ٹریک کلیئر کر لیا جائے گا، متاثرہ ٹرینوں کی آمد و رفت فوری طور پر بحال کر دی جائے گی۔
انتظامیہ کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کے عمل کے دوران مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ڈاؤن ٹریک بند ہونے سے نظامِ آمدورفت بری طرح متاثر ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔