ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.56 فیصد اضافہ، سالانہ شرح 4.07 فیصد ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 4.07 فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھیں: اگست 2025 میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 3 فیصد پر آگئی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 12 اشیا کی قیمتوں میں کمی اور 20 اشیا کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹماٹر سب سے زیادہ مہنگے ہوئے اور ایک ہفتے میں ان کی قیمت فی کلو 88 روپے 22 پیسے بڑھ گئی۔
اسی طرح پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی 4 روپے سے زائد بڑھ گئیں۔
لہسن کی فی کلو قیمت میں 5 روپے 6 پیسے اضافہ ہوا جبکہ بیف، دہی، تازہ دودھ، گندم کا آٹا، دال ماش اور سگریٹ بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: مہنگائی کی شرح میں معمولی اضافہ، ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ جاری
ایک ہفتے میں چکن فی کلو 27 روپے 39 پیسے سستا ہوا جبکہ ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 12 روپے 87 پیسے کم قیمت پر دستیاب رہا۔
رپورٹ کے مطابق دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔
اسی طرح کیلے فی درجن 1 روپے سستے ہوئے جبکہ آلو، دال مونگ، انڈے، چاول اور چینی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادارہ شماریات اشیا پیٹرول ڈیزل شرح مہنگائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادارہ شماریات اشیا پیٹرول ڈیزل مہنگائی مہنگائی کی شرح ادارہ شماریات کی قیمتوں میں ہفتہ وار کے مطابق
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔