گلوبل صمود فلوٹیلا: بلاول بھٹو زرداری کا گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسرائیل کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے اور ڈاکٹروں و رضاکاروں کو حراست میں لینے کی شدید مذمت کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کھانا اور دوا کوئی خطرہ نہیں، اسرائیل کا یہ اقدام انسانیت پر کھلا حملہ ہے۔
Food & medicine are not threats.
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) October 3, 2025
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے پاکستان کے سینیٹر مشتاق احمد خان کو حراست میں لے کر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ میں شامل آخری کشتی پر بھی اسرائیل کا قبضہ
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
ساتھ ہی انہوں نے غزہ کے لیے انسانی راہداری کھولنے اور فلسطین کے عوام کے لیے انصاف فراہم کرنے پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایکس بلاول بھٹو زرداری صمود فلوٹیلا غزہ فلسطین مشتاق احمد خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایکس بلاول بھٹو زرداری صمود فلوٹیلا فلسطین مشتاق احمد خان گلوبل صمود فلوٹیلا بلاول بھٹو زرداری
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔