لاہور:

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت نے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے امن کو تباہ کر دیا ہے، اور اگر پاکستان نے کسی بھی شکل میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی حمایت دراصل فلسطین اور کشمیر کے عوام کی قربانیوں سے انحراف ہوگا۔

حافظ نعیم نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں کرپشن اور مراعات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں لیکن عوامی مسائل کے حل کے لیے کچھ نہیں کر رہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکا نے اسرائیل کو قتلِ عام اور بمباری کا لائسنس دے رکھا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ دراصل نیا نوآبادیاتی نظام ہے، جس میں فلسطینی عوام کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف نے مجرم قرار دیا لیکن عالمی برادری دباؤ ڈالنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، حالانکہ 22 سے 30 لاکھ انسان اس وقت قحط سالی کا شکار ہیں۔

حافظ نعیم نے کہا کہ فلوٹیلا کے ذریعے دنیا بھر کے کارکنان اور نمایاں شخصیات خوراک لے کر فلسطین جا رہی ہیں لیکن ان پر بھی بمباری کی جا رہی ہے، جو کھلی دہشت گردی ہے۔

جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ فلوٹیلا پر حملوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں چار اکتوبر کو لاہور، پانچ اکتوبر کو کراچی اور سات اکتوبر کو ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل محض دھوکا ہے اور پاکستان کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ وہ غدار ہوگا جو اسرائیل کو تسلیم کرے گا خواہ اس کے پاس کتنی ہی طاقت کیوں نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے یہ رویہ جاری رکھا تو عوام گلی کوچوں اور سڑکوں پر نکل کر مزاحمت کریں گے اور حکمران عبرت کا نشان بن جائیں گے۔

آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں طاقت کا استعمال افسوسناک ہے، جبکہ مسئلہ عقل و فہم سے حل ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور امن قائم کرنے میں کردار ادا کرے گی۔

حافظ نعیم نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو غیر فطری اتحاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں کرپشن، مراعات اور اسٹیبلشمنٹ کی خوشامد کی سیاست کرتی ہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو انہوں نے کرپشن کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 700 ارب روپے کے اس پروگرام کو اگر فری آئی ٹی تعلیم پر خرچ کیا جائے تو غربت کم ہو سکتی ہے، جبکہ موجودہ شکل میں تین ماہ بعد 12 ہزار روپے دینے سے غربت ختم نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امن معاہدے سے پہلے ہی خوشامدانہ ٹوئٹ کر دیا، جو عوامی امنگوں کے خلاف ہے۔

حافظ نعیم نے حکومت پر زور دیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بجائے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کھل کر اعلان کیا جائے، ورنہ عوام اس پالیسی کو مسترد کر دیں گے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان اسرائیل کو تسلیم جماعت اسلامی حافظ نعیم نے ہوئے کہا کہ کو تسلیم کر کہ اسرائیل نے کہا کہ کیا جائے انہوں نے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی