data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کی تازہ ترین تباہی اور ڈونلڈ ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ دنیا کی موجودہ سیاست کا عکاس ہے ایک ایسا منصوبہ جو بظاہر جنگ بندی اور امداد کا وعدہ کرتا ہے مگر عملی اور قانونی جواز کی جگہ سیکورٹی کی شرائط کے ذریعے فلسطینی خود ارادیت کو پس پشت ڈالنے کا امکان زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی خونریز لہر نے غزہ کو انسانی المیے کے بیچ میں ڈال دیا، لاکھوں بے گھر اور ہزاروں متاثرہ افراد نے بین الاقوامی برادری سے فوری اور غیرمشروط انسانی رسائی کا مطالبہ کیا۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ کی پیشکش اور نیتن یاہو کی اس کی تائید، بلاشبہ ایک سیاسی دستاویز ہے جس کا محور اسرائیل کے خدشات کو پْشت پناہی دینا ہے نہ کہ فلسطینیوں کے حق ِ خود ارادیت کو یقینی بنانا۔ منصوبے کی مرکزی شقیں، 72 گھنٹے میں یرغمالیوں کی رہائی، ہتھیار چھوڑنے کی صورت میں معافی، غزہ کی بحالی کے لیے بین الاقوامی ادارہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی تشکیل، اور حماس کو حکومت سے بالواسطہ یا براہِ راست باہر رکھنا اگرچہ زبانی طور پر امداد اور تعمیر نو کا وعدہ کرتی ہیں مگر ان شرائط کا مطلب سیاسی نمائندگی کا خاتمہ، مقامی مزاحمتی ڈھانچوں کی غیرموجودگی، اور غزہ کے مستقبل پر بیرونی کنٹرول ہے۔ جب کسی علاقے کی منتخب نمائندہ جماعت کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا جائے تو امن معاہدہ کا جواز شکوک کی زد میں آتا ہے؛ امن تبھی پائیدار ہو سکتا ہے جب شامل فریقین کو مذاکراتی میز پر اپنا کردار اور وقار حاصل ہو۔

بین الاقوامی ردعمل نے بھی اس منصوبے کی جھلکیوں کو بے نقاب کیا ہے: فلسطینی اتھارٹی کی تعریفی لہجہ سے لے کر فلسطینی اسلامی جہاد کے سخت ردِعمل تک، مسلم ممالک کے مخلوط موقف سے واضح ہوتا ہے کہ اس پلان نے علاقائی مفادات اور طاقت کے توازن کو ہلکا سا بدل دیا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کی طرف سے تحفظات اور ترامیم کی درخواست، اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی قرارداد کے حوالے سے واضح عدم اتفاق، یہ بتاتے ہیں کہ عالمی سطح پر بھی اس معاہدے کی قبولیت یکساں نہیں۔ مزید براں ٹونی بلیئر جیسے ناموں کا شامل ہونا تاریخی پس ِ منظر کے سبب متنازع ہے، عراق پر مبینہ غلط بیانی اور اس کے بعد آنے والی تنقید نے بلیئر کی غیرجانبداری پر سوال اٹھا دیا ہے، لہٰذا غزہ جیسے نازک معاملے میں ان کا مرکزی کردار شکوک و شبہات کو مزید تقویت دیتا ہے۔

قانونی اور اخلاقی حوالوں سے بھی متعدد اہم سوالات جنم لیتے ہیں: آیا جنگ بندی کو جو سیاسی قیمت چکانی پڑے گی وہ بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ٹھیرے گی؟ اجتماعی سزا، جبراً تبادلے کے خدشات، اور غیرجانبدارانہ انسانی رسائی پر شرائط لگانا یہ سب عالمی انسانی حقوق اور جنگی قوانین کے زاویے سے خطرناک ہیں۔ امداد اور تعمیر نو کے وعدے تبھی قابل ِ قبول ہوں گے جب لا محدود اور مشروط نہ ہوں، اور مقامی شفاف نگرانی کے ساتھ منظم ہوں نہ کہ ایسے اداروں کے ذریعے جو مقبولیت یا نمائندگی کے تقاضوں کو نظر انداز کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ عسکری حل کبھی دیرپا امن کا ضامن نہیں رہے۔ اگر حماس نے منصوبہ قبول کر لیا تو عارضی طور پر یرغمالیوں کی رہائی اور فوری امدادی فوائد ممکن ہیں؛ مگر مسئلہ کی جڑ مقبوضہ اراضی، عبوری انتظامات، فلسطینی سیاسی حقوق اور مستقبل کی ریاستی حیثیت ان اقدامات سے حل نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب، اگر حماس نے مسترد کیا تو ٹرمپ کی دھمکیوں اور اسرائیل کی فوجی طاقت کی دھمکی کا نتیجہ مزید انسانی نقصان اور خطے میں کشیدگی کی فضا میں اضافہ ہوگا، جسے علاقائی عدم استحکام اور بین الاقوامی تنہا پن کے طور پر واپس لوٹا جا سکتا ہے۔

عملی اور پالیسی سفارشات واضح ہیں: اولاً، فوری اور غیرمشروط جنگ بندی، انسانی امداد تک مکمل رسائی، اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بامعنی پیش رفت سب سے فوقیت ہونی چاہیے۔ ثانیاً، غزہ کے مستقبل کا حل کسی بیرونی ’’بورڈ‘‘ یا مشروط ٹیکنیکل کمیٹی کے ہاتھ میں دے کر نہیں نکالا جانا چاہیے؛ اس عمل میں مقامی نمائندوں، سول سوسائٹی، اور فلسطینی اتھارٹی کو لازماً شامل کیا جائے تاکہ خود ارادیت کا احترام برقرار رہے۔ تیسرا، تعمیر نو فنڈز کی نگرانی بین الاقوامی شفاف میکانزم (جیسے اقوامِ متحدہ کے تحت بااختیار مشن) کے ذریعے کی جائے، جس میں بدعنوانی روکنے کے ساتھ ساتھ مقامی بھرتی اور فائدہ اٹھانے کے معیارات طے ہوں۔ چوتھا؛ علاقائی شراکت داروں (مصری، قطری، ترکی، سعودی اور دیگر) کو مذاکرات میں مؤثر اور غیرجانبدار ثالث کے طور پر شامل کیا جائے، نہ کہ محض طاقت کے ترجمان۔ آخر میں، مسلم امہ اور بین الاقوامی برادری کو متحد اور اصولی موقف اختیار کرنا چاہیے: انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی حق ِ خود ارادیت کے دفاع کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

غزہ میں خون ریزی نے واضح کر دیا ہے کہ وقتی عسکری فتوحات یا سیاسی دستاویزات سے زیادہ ضروری انسانی انصاف، قانونی جوابدہی اور ایک جامع سیاسی حل ہے۔ جو امن انصاف اور وقار کے ساتھ قائم نہ ہو، وہ عارضی ہوگا اور اسی عارضیت کی قیمت غزہ کے معصوم شہری آج چکا رہے ہیں۔ عالمی برادری، علاقائی طاقتیں اور بالخصوص مسلم ممالک پاکستان سمیت اس وقت تاریخی موقع رکھتے ہیں کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو اقتدار و مفادات سے بالاتر رکھتے ہوئے ایک ایسی راہ تلاش کریں جو خون کو رکا سکے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق واپس دلوا سکے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی خود ارادیت اور اس

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید