امریکی ٹیرف: انڈیا واٹس ایپ اور مائیکروسافٹ کے متبادل دیسی ایپس کو فروغ دینے کے لیے کوشاں
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے 3 وزرا نے گوگل میپس، واٹس ایپ اور مائیکروسافٹ جیسے عالمی برانڈز کے بجائے ملکی متبادل ایپس کے استعمال کو فروغ دینا شروع کردیا ہے۔
یہ قدم امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں دیسی مصنوعات کی حمایت میں سب سے مضبوط اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ونڈوز 10 کا دور ختم ہونے کے قریب، مائیکروسافٹ نے حتمی اعلان کردیا
اگست میں امریکا کی جانب سے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد مودی نے مقامی مصنوعات کے استعمال پر زور دینا شروع کیا۔ گزشتہ ماہ انہوں نے عوام سے براہِ راست اپیل کی تھی کہ روزمرہ کی ضروریات کے لیے غیر ملکی اشیا ترک کی جائیں۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اشوِنی ویشنؤ نے حال ہی میں ایک پریزنٹیشن پیش کی جو زوہو سافٹ ویئر کے ذریعے تیار کی گئی تھی اور اس میں گوگل میپس کے بجائے بھارتی کمپنی میپ مائی انڈیا کا استعمال کیا گیا۔
وزیرِ تجارت پیوش گوئل اور وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے بھی زوہو کے چیٹ ایپ ‘ارتائی’ کی تشہیر کی، جو تمل زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب گفتگو ہے۔ ارتائی کے ڈاؤن لوڈز اگست کے مقابلے میں ستمبر میں 4 لاکھ سے زیادہ ہو گئے جبکہ یومیہ فعال صارفین 26 ستمبر کو ایک لاکھ سے اوپر پہنچ گئے جو ایک ہی دن میں 100 فیصد اضافہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برانڈز کو مقامی ایپس سے بدلنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ امریکی کمپنیاں نہ صرف مالی طور پر مضبوط ہیں بلکہ ان کا دائرہ اثر بھی وسیع ہے۔ 2021 میں بھارتی وزرا نے کُو نامی مقامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی حمایت کی تھی لیکن مالی مسائل کے باعث یہ گزشتہ برس بند ہو گیا۔
پی آر ماہر دلیپ چیرین نے خبردار کیا کہ صرف حکومتی سرپرستی کافی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق زوہو جیسے برانڈز کو کامیابی کے لیے منفرد خصوصیات، بڑے مالی وسائل اور صارفین کے ڈیٹا پر نگرانی سے مضبوط تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا انڈیا ایپ ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا انڈیا ایپ ٹیکنالوجی کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔