حکومت کا عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق اہم اعلان، ایکس سے رابطے
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق اہم اعلان کرتے ہوئے ایکس سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق ایکس کے ساتھ رابطے ہو رہے ہیں، عمران خان کے ایکس اکاونٹ سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، ایکس سے بھی رابطے میں ہیں، مزید شواہد سامنے آنے پر نتائج جلد سامنے آ جائیں گے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 16 اکتوبر کو منعقد ہوں گے
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کے تانے بانے جہاں سے ملتے ہیں، یا جو اسے چلا رہا ہے، اس وقت صرف اتنا بتاسکتا ہوں، اس حوالے سے قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کے ’ایکس‘ ہینڈل کے استعمال سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی تھی، جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عمران خان سے ایک بار پھر تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
شاہدرہ : شوہر کا بیوی پر چھریوں سے حملہ، گلا کاٹنے کی کوشش
این سی سی آئی اے نے 21 نکاتی سوال نامہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے کر دیا تھا، ان سے تفتیش سوال نامے کے تحریری جواب کی روشنی میں کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے نے سوال کیا تھا کہ جیل میں ہونے کے باوجود آپ کا ایکس اکاؤنٹ فعال کیسے ہے؟
ایک اور سوال میں استفسار کیا گیا ہے کہ آپ کا ایکس (ٹوئٹر) کہاں سے اور کون آپریٹ کرتا ہے؟ کیا ذاتی ایکس اکاؤنٹ سے ہونے والی پوسٹس تسلیم کرتے ہیں؟ ایک سوال میں پوچھا گیا کہ کیا ملک مخالف ٹوئٹس آپ کی مرضی سے پوسٹ کی جاتی ہیں؟
اعجاز چودھری کی سزا کیخلاف اپیلیں 7 اکتوبر کوسماعت کے لئے مقرر
این سی سی آئی اے کی تفتیشی ٹیم 2 مرتبہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرچکی، تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جیل میں این سی سی آئی اے کی ٹیم سے تعاون نہیں کیا تھا۔ دوسری ملاقات میں عمران خان نے تفتیشی ٹیم کے ساتھ تلخ کلامی بھی کی تھی، بانی پی ٹی آئی کے عدم تعاون کے وجہ سے تحریری سوال نامہ حوالے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 14 مئی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کی اجازت دی تھی.
ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن نے آوارہ کتوں کیخلاف کارروائی کیلئے ہائیکورٹ سےرجوع کر لیا
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے 9 مئی واقعات کے حوالے سے سچائی جانچنے کے لیے پولی گرافک سمیت دیگر ضروری سائنسی ٹیسٹ کروائے جانا اہم ہے تاہم، عدالت میں سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے درخواست کی سخت مخالفت کی تھی۔
ابتدائی دلائل میں ان کا کہنا تھا کہ 2 سال بعد ایسی درخواست دائر کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔ تفتیشی ٹیم 4 بار عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کرنے اڈیالہ جیل گئی، لیکن عمران خان نے ٹیسٹ کروانے سے انکار کر دیا تھا۔
فلی فنڈڈ سٹڈی پروگرام کیلئےذہین اورمستحق طلباء سے درخواستیں طلب
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ پولی گرافک کیا تھا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔