جج ہمایوں دلاور کے خلاف سوشل میڈیا مہم، عمران ریاض کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جج ہمایوں دلاور کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم سے متعلق کیس میں معروف یوٹیوبر عمران ریاض خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
پیکا ایکٹ کے تحت عمران ریاض کے وارنٹ گرفتاری جاری، عدالت میں پیش کرنے کا حکم pic.twitter.com/TZtL0YfA4A
— WE News (@WENewsPk) October 4, 2025
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے کی، جہاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عمران ریاض کے وارنٹ گرفتاری کی باقاعدہ درخواست پیش کی۔
سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ عمران ریاض خان جج ہمایوں دلاور کے خلاف جاری سوشل میڈیا مہم میں ملوث ہیں، جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے یوٹیوبر کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ سائبر کرائم ایجنسی نے عمران ریاض کی گرفتاری کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست عدالت میں جمع کرائی تھی، جسے منظور کر لیا گیا۔
یہ بھی واضح رہے کہ عمران ریاض خان اس وقت ملک سے باہر ہیں، تاہم وہ ملکی صورت حال پر بات کرتے رہتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جج ہمایوں دلاور سوشل میڈیا مہم وارنٹ گرفتاری وی نیوز یوٹیوبر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جج ہمایوں دلاور سوشل میڈیا مہم وارنٹ گرفتاری وی نیوز یوٹیوبر وارنٹ گرفتاری جاری جج ہمایوں دلاور سوشل میڈیا مہم عمران ریاض
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔