پاکستان خطے میں ایک عظیم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 اکتوبر2025ء) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اب خطے میں ایک عظیم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے، ہم نے پانچ گنا طاقتور دشمن کو شکست دے کر انڈیا کی بالادستی ختم کی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، قطر کی ترقی میں 70 فیصد حصہ پاکستانی انجینئرز کا ہے اور ورلڈ بینک میں سب سے زیادہ قابل افراد بھی پاکستانی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار گورنر سندھ نیTAFSMUN 2025 کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں جاری مفت آئی ٹی کورسز کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تربیت کے دوران کئی نوجوان اب ہزاروں ڈالرز ماہانہ کمانے کے قابل ہو چکے ہیں۔(جاری ہے)
گورنر سندھ نے اعلان کیا کہ انشاء اللہ آئی ٹی کورسز کا دائرہ پورے سندھ تک پھیلایا جائے گا تاکہ ہر نوجوان کو جدید ہنر سے آراستہ کیا جا سکے۔
انہوں نے "امید کی گھنٹی" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کروا سکتا ہے، کیونکہ گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران تین سالوں میں 13 لاکھ افراد نے گورنر ہاؤس میں افطار کیا، جبکہ 10 لاکھ راشن باکس مستحق افراد میں تقسیم کیے گئے۔گورنر سندھ نے نوجوانوں کو ترقی، ہنر اور مثبت سوچ کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی چاہتے ہو تو منفی سوچ ذہن سے نکال دو۔ بڑی سوچ رکھو گے، تو بڑے کام کرو گے۔ ہنر پیدا کرو، یہی وقت کی ضرورت ہے۔گورنر سندھ نے تنقید کے بجائے تصحیح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان میں پرائمری ایجوکیشن کمیشن کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گورنر سندھ نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔