—فائل فوٹوز

ڈائریکٹر جنرل پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ 5 سے 7 اکتوبر تک بالائی علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران بھارت کی جانب سے 1 لاکھ کیوسک تک پانی آ سکتا ہے، دریائے ستلج میں 50 ہزار کیوسک جبکہ تھیم ڈیم سے دریائے راوی میں 35 ہزار کیوسک پانی آنے کا خدشہ ہے۔

سمندری طوفان ’شَکتی‘ مزید شدت اختیار کر گیا، کراچی سے 390 کلو میٹر دور موجود

سمندری طوفان ’شَکتی‘ مزید شدت اختیار کر گیا، جو کراچی سے تقریباً 390 کلو میٹر جنوب، جنوب مغرب کی سمت میں ہے۔

عرفان کاٹھیا نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کا 21 فیصد سروے مکمل ہو چکا ہے، 27 اکتوبر تک یہ سروے مکمل ہو جائے گا، اب تک 27 اضلاع کے 1 لاکھ 264 سیلاب متاثرین کا ڈیٹا محفوظ کیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا 6 اکتوبر کو بینک آف پنجاب میں جائے گا، تب متاثرین کے اے ٹی ایم کارڈ بننا شروع ہوں گے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا کہ سیلاب کے دوران زخمی ہونے اور انتقال کر جانے والوں، گھروں کے گرنے اور فصلوں اور لائیو اسٹاک کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، امدادی رقوم براہِ راست سیلاب متاثرین کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا