ووٹ لینا ہو تو کہتے ہیں مائی کراچی،کام کرنا ہو تو کہتے ہیں بائے کراچی: گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
کراچی (آئی این پی )گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہاہے کہ سیاسی حالات اور مہنگائی نے بہت کچھ بدل دیا، ووٹ لینا ہوتا ہے تو مائی کراچی، کام کرنا ہو تو کہتے ہیں بائے کراچی۔ایک تقریب سے خطاب میں گورنر سندھ نے کہا کہ ہر شعبے کی طرح فنون لطیفہ بھی زوال پذیر ہے، آہستہ آہستہ ہم ادب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کا تھیٹر فیملی کے ساتھ جاکر نہیں دیکھاجاسکتا، اردو کا کام سب سے زیادہ پنجاب میں ہورہا ہے، ہر ماہ گورنر ہائوس میں مشا عرہ ہوگا۔دوسری جانب ملک بھر میں بڑھتی مہنگائی پر کامران ٹیسوری کا کہنا تھاکہ سیاسی حالات اور مہنگائی نے بہت کچھ بدل دیا، ووٹ لینا ہوتا ہے تو مائی کراچی، کام کرنا ہو تو کہتے ہیں بائے کراچی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔