پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ان پاکستانی شہریوں کی ’سلامتی اور فوری واپسی‘ کو یقینی بنایا جا سکے جنہیں اسرائیلی فورسز نے اس ہفتے کے آغاز میں غزہ کا محاصرہ توڑنے اور امداد پہنچانے کے لیے جانے والے بحری قافلے کو روکنے کے بعد غیرقانونی طور پر حراست میں لیا۔

حراست میں لیے گئے افراد میں سابق سینیٹر جماعتِ اسلامی مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ’ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع سے ہمیں تصدیق ہوئی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض فورسز کی حراست میں ہیں اور وہ محفوظ و صحت مند ہیں‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ’مقامی قانونی ضوابط کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور جب ان کی ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے تو ان کی واپسی کو تیز رفتار بنیاد پر ممکن بنایا جائے گا‘۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ وہ پہلے بھی ان پاکستانی شہریوں کی واپسی میں معاون رہی ہے جو بحری قافلے سے قبل ہی واپس آ چکے ہیں، ’اس تناظر میں ہم ان برادر ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے شہریوں کی واپسی میں تعاون کیا‘۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومت ’بیرونِ ملک اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے‘ اور توقع ہے کہ وطن واپسی کا یہ عمل آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔

گزشتہ بدھ کی رات اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر کئی فلسطین نواز کارکنوں کو گرفتار کیا تھا جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھن برگ بھی شامل تھیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ایک سابقہ بیان کے مطابق حراست میں لیے گئے پاکستانیوں میں مظہر سعید شاہ، وجاہت احمد، ڈاکٹر اسامہ ریاض، اسماعیل خان، سید عزیز نظامی اور فہد اشتیاق بھی شامل ہیں۔

یہ بحری قافلہ گزشتہ ماہ روانہ ہوا تھا، اور پاکستانی وفد کی قیادت سابق سینیٹر مشتاق احمد کر رہے تھے۔

جب فلوٹیلا غزہ کے سمندری حدود کے قریب پہنچی تو یکم اکتوبر کی رات اسرائیلی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے قافلے کو روک لیا، اور اگلے روز تک اس کی 40 سے زائد کشتیوں کو تحویل میں لے لیا۔

اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے مسلح کارروائی کے دوران متعدد کشتیوں پر کارکنوں کو ہتھیاروں کے زور پر حراست میں لینے کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں، فلوٹیلا کے منتظمین نے ہر کشتی پر سیکیورٹی کے پیش نظر کیمرے نصب کیے ہوئے تھے جو پورے سفر کو براہِ راست نشر کر رہے تھے۔

بحری قافلے کو روکنے کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا کہ تمام کارکنوں کو یورپ جلاوطن کیا جائے گا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کن ممالک بھیجا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سابق سینیٹر مشتاق دفتر خارجہ مشتاق احمد جائے گا

پڑھیں:

راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار

— فائل فوٹو

راولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔

راولپنڈی: دورانِ ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین، بیوی ہی قاتل نکلی

راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔

پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔

جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم