وفاقی دارالحکومت میں دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) اسلام آباد نے اعلان کیا ہے کہ وہ 17 نومبرسے وفاقی دارالحکومت میں تمام اقسام کی دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کرے گی۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام اسموگ کے موسم سے قبل فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔اس مہم کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر گاڑیوں کی اچانک چیکنگ اور موقع پر ہی اخراجِ دھواں کی جانچ کی جائے گی جو گاڑیاں مقررہ حد سے زیادہ دھواں خارج کرتی پائی گئیں، ان پر جرمانہ یا ضبطگی کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ؛ پاکستان کیخلاف بھارت کی بیٹنگ جاری
انہوں نے کہا کہ اسموگ کا موسم قریب ہے جو عوامی صحت اور ماحول دونوں کے لیے سنگین خطرات لاتا ہے۔ "اپنے آپ کو، اپنے خاندان کو اور اپنے ماحول کو فضائی آلودگی اور اسموگ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اسموگ گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج، اور کوڑا کرکٹ یا فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث پیدا ہوتی ہے، جو بچوں، بوڑھوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔یہ ماحولیاتی بگاڑ، کمزور فضائی معیار، فصلوں کو نقصان، اور حدِ نگاہ میں کمی جیسے مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ "اسلام آباد کو صاف اور سرسبز بنانے کے لیے عوام کا تعاون نہایت ضروری ہے۔
سوات؛ شہری علاقوں میں بارش، بالائی مقامات پر برف باری
حکومت کے اقدامات اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب عوام ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کریں، گاڑیوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کریں تاکہ دھواں کم سے کم خارج ہو، اور کھلی جگہوں پر کوڑا یا پتّے جلانے سے اجتناب کریں۔
انہوں نے تمام گاڑی مالکان سے کہا کہ وہ 17 نومبر سے قبل اپنی گاڑیوں کا دھواں ٹیسٹ کروائیں اور پاک ای پی اے کے مقرر کردہ مراکز سے کلیئرنس اسٹیکر حاصل کریں تاکہ جرمانے سے بچ سکیں۔ مزید معلومات کے لیے گاڑی مالکان پیر تا جمعہ، صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک، پاک ای پی اے اسلام آباد کے دفتر (فون نمبر: 051-9250713) سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ بطور صدر کبڈی فیڈریشن ہم نے ورلڈ کپ جیتا؛ چوہدری شافع حسین
محمد سلیم شیخ نے خبردار کیا کہ "جو گاڑیاں دورانِ چیکنگ اخراج کے مقررہ معیار پر پورا نہیں اتریں گی، ان پر جرمانہ کیا جائے گا جبکہ حد سے زیادہ دھواں خارج کرنے والی گاڑیاں موقع پر ہی بند یا ضبط کی جا سکتی ہیں۔
دھواں اخراج ٹیسٹنگ مہم شہر کے مختلف مقامات پر قائم اسٹیشنری اور موبائل ٹیسٹنگ یونٹس کے ذریعے جاری ہے۔ اہم ٹیسٹنگ پوائنٹس ڈی چوک (پریڈ گراؤنڈ کے قریب)، ایف-9 پارک، اور اسلام آباد ایکسپریس وے سمیت شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم کیے گئے ہیں، جب کہ موبائل ٹیمیں تجارتی و مصروف علاقوں میں اچانک چیکنگ بھی کر رہی ہیں۔
گلگت ; دہشت گردوں کی مولانا قاضی نثار کے قافلے پر فائرنگ
محمد سلیم شیخ نے اس اقدام کو حکومت کی جامع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد دارالحکومت میں گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی کم کرنا اور عوامی صحت و ماحولیاتی معیار کا تحفظ ہے۔ نفاذ کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں تاکہ شہریوں کو گاڑیوں کی دیکھ بھال، دھواں ٹیسٹنگ، اور ماحول دوست طرزِ زندگی کے بارے میں تعلیم دی جا سکے۔یہ آگاہی مہم مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے چلائی جا رہی ہے تاکہ گاڑی مالکان رضاکارانہ طور پر قانون پر عمل کریں اور اسلام آباد کی فضا کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ "گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا سبب ہے، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ہم اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اخراجِ دھواں کی جانچ میں کاربن مونو آکسائیڈ سمیت دیگر نقصان دہ گیسوں کی سطح کی نگرانی شامل ہے، جو انسانی صحت اور ماحول کے لیے خطرناک ہیں۔ جو گاڑیاں ٹیسٹ میں کامیاب ہوں گی، انہیں کلیئرنس اسٹیکر جاری کیا جائے گا تاکہ حکام ان کی آسانی سے شناخت کر سکیں۔انہوں نے تمام ڈرائیورز سے اپیل کی کہ وہ معائنہ ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور اپنی گاڑیوں کی باقاعدہ دیکھ بحال کریں۔
facebooktwitterwhatsup
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: دھواں خارج اسلام آباد گاڑیوں کی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔