پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد ایک اور بڑی پیشرفت، اعلی سطح پر کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد ایک اور بڑی پیشرفت، اعلی سطح پر کمیٹی قائم WhatsAppFacebookTwitter 0 5 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے اٹھارہ ارکان پر مشتمل ایک اعلی سطح کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی 18 رکنی اعلی سطح کی کمیٹی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے، یہ کمیٹی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مذاکرات کی قیادت کریگی۔نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے یہ اعلی سطح کی کمیٹی قائم کی ہے، جو پاکستان سعودی عرب اقتصادی فریم ورک کے تحت بات چیت کی نگرانی کرے گی اس فیصلے کا اعلان تین اکتوبر کو ہونے والے ایک اعلی سطحی جائزہ اجلاس کے بعد کیا گیا۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق مسعود ملک اور نیشنل کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد کو کمیٹی کا شریک چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے ممبران میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احدچیمہ، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ توانائی اویس لغاری، وزیرِ خوراک رانا تنویر حسین، وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان، چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین اور دیگر شامل ہیں۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے مشترکہ چیئرمین سعودی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے مرکزی ٹیمیں تشکیل دیں گے جو تیز رفتاری سے اپنے فرائض سرانجام دیں گی جبکہ اراکین کی دستیابی 6 اکتوبر 2025 سے یقینی بنائی جائے گی۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کا دائرہ دفاع اور توانائی سے بڑھ کر ماحولیات اور موسمیاتی استحکام کے شعبوں تک وسیع ہو رہا ہے۔
کمیٹی میں توانائی، تجارت، صنعت، مواصلات اور زراعت کے وفاقی وزرا شامل ہیں جبکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، اسٹیٹ بینک، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اورریاض سعودی عرب میں قائم پاکستانی سفارت خانہ کے سینئر حکام بھی اس ٹیم کا حصہ ہوں گے۔اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے کوآرڈی نیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہیتاکہ اقتصادی سفارت کاری میں سول و عسکری اداروں کے درمیان قریبی رابطہ یقینی بنایا جا سکے ۔وزیراعظم آفس نے ہدایت دی ہے کہ کمیٹی سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو تیز کریاور تمام اراکین چھ اکتوبر سے دستیاب رہیں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ سعودی عرب سے متعلق کسی بھی اجلاس کے لیے سفری منظوری ایک ہی دن میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے کے اندر مکمل کی جائے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مزید ہدایت کی گئی ہے کہ ایس آئی ایف سی کمیٹی کے ارکان کے سفر کے انتظامات اور منظوری کے لیے سفارشات وزیرِاعظم آفس کو بھیجے گا جنہیں اسی روز ایک گھنٹے کے اندر اندر منظور کیا جائے گا۔کمیٹی حسبِ ضرورت دیگر ارکان کو بھی شامل کر سکے گی جبکہ سیکریٹریل معاونت ایس آئی ایف سی فراہم کرے گانوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی وزیرِاعظم کو اپنی کارکردگی رپورٹ ہر پندرہ روز بعد پیش کرے گی۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات میں سعودی عرب سے تیل اور زراعت کے شعبوں میں بائے بیک سرمایہ کاری کی تجدیدِ درخواست کرے گا جبکہ اسلام آباد کی کوشش ہوگی کہ سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات میں اضافہ کیا جائے کیونکہ اس وقت دوطرفہ تجارت میں تین ارب ڈالر کا خسارہ سعودی عرب کے حق میں ہیجبکہ بات چیت کے دوران وہ تیل ریفائنری منصوبہ بھی زیرِ غور آئے گا جو ایک دہائی سے تعطل کا شکار ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے رواں ماہ کے آخری ہفتے میں سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جانے کا امکان ہے جہاں وہ اقتصادی معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچ گئے، مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع وزیراعظم سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچ گئے، مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع چیئرمین سینیٹ نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کارروائی روک دی وزیراعظم کی اے لیول امتحانات میں امتیازی گریڈ حاصل کرنیوالی ماہ نور سے ملاقات پی ٹی آئی دور حکومت کی 131ملین روپے کی مالی بے ضابطگی سامنے آگئی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کا اسلام آباد میں17نومبرسے دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاون کا اعلان کوئی بھی اگر پاکستان مخالف بولے گا، ہم اس کو نہیں مانتے، حنیف عباسیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔