ڈی آئی جی پونچھ کی احتجاج میں شہید اہلکاروں کی رہائشگاہ آمد
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سردار ظہیر نے شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ ہمارے بھائیوں کو ظالمانہ طریقے سے ہم سے چھینا گیا، ہمارے بھائیوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈی آئی جی پونچھ کی احتجاج میں شہید اہلکاروں کی رہائشگاہ آمد۔ سردار ظہیر نے شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ ہمارے بھائیوں کو ظالمانہ طریقے سے ہم سے چھینا گیا، ہمارے بھائیوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیا گیا، آپ کہتے تھے آپ کی تحریک پرامن ہے، تعمیر و ترقی چاہتے ہیں۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ کیا یہ آپ کی پرامن تحریک ہے؟ کیا یہ آپ کا منشور ہے؟ آپ کو پولیس بیریئر توڑ کر فتح مل گئی تھی، یہ آپ کا کون سا تعمیر و ترقی کا ایجنڈا تھا، خدا را اپنے اندر کالی بھیڑوں کو پہچانیں، آپ کے اندر کے ساتھی آپ کو پرامن نہیں رہنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سارے لوگ اس تحریک کے قصوروار ہیں جو ہمارے بچوں کو اشتعال انگیز تقاریر کر کے جتھوں کی صورت میں اکٹھا کرتے رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہمارے بھائیوں کو شہید اہلکاروں کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔