ڈی آئی جی پونچھ کی احتجاج میں شہید اہلکاروں کی رہائشگاہ آمد
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سردار ظہیر نے شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ ہمارے بھائیوں کو ظالمانہ طریقے سے ہم سے چھینا گیا، ہمارے بھائیوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈی آئی جی پونچھ کی احتجاج میں شہید اہلکاروں کی رہائشگاہ آمد۔ سردار ظہیر نے شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ ہمارے بھائیوں کو ظالمانہ طریقے سے ہم سے چھینا گیا، ہمارے بھائیوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیا گیا، آپ کہتے تھے آپ کی تحریک پرامن ہے، تعمیر و ترقی چاہتے ہیں۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ کیا یہ آپ کی پرامن تحریک ہے؟ کیا یہ آپ کا منشور ہے؟ آپ کو پولیس بیریئر توڑ کر فتح مل گئی تھی، یہ آپ کا کون سا تعمیر و ترقی کا ایجنڈا تھا، خدا را اپنے اندر کالی بھیڑوں کو پہچانیں، آپ کے اندر کے ساتھی آپ کو پرامن نہیں رہنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سارے لوگ اس تحریک کے قصوروار ہیں جو ہمارے بچوں کو اشتعال انگیز تقاریر کر کے جتھوں کی صورت میں اکٹھا کرتے رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہمارے بھائیوں کو شہید اہلکاروں کہا کہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔