اسرائیل نے 9 ستمبر 2025کو دوحہ پر حملہ کر دیا‘ یہ 1981 میں بغداد کے ایٹمی ریکٹر جیسا حملہ تھا‘ اچانک کیا گیا اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی‘ دوحہ میں حماس کی لیڈر شپ کی رہائش گاہیں اسرائیل کا ٹارگٹ تھیں‘ اسرائیل کے اس آپریشن کے بارے میں دو معلومات ہیں‘ وال اسٹریٹ جنرل نے 10ستمبر کو نقشے کے ذریعے ثابت کیا اسرائیل نے ریڈسی سے میزائل داغے اور یہ انتہائی بلندی سے سعودی عرب کے اوپر سے گزر کر دوحہ میں گرے‘ دوسرا ورژن ترکی کا ہے اور یہ زیادہ مضبوط ہے۔
ترک انٹیلی جنس کے مطابق اسرائیلی ائیرفورس ایف 15 طیاروں کے ذریعے شام کے راستے عراق اور وہاں سے قطر میں داخل ہوئی اور براہ راست ہدف کو نشانہ بنایا‘ ایف 15ا سٹیلتھ طیارے ہیں جنھیں ریڈار ٹریس نہیں کر سکتے لیکن ترک انٹیلی جنس کو یہ نظر بھی آئے اور انھوں نے حماس کی لیڈر شپ کو بروقت اطلاع بھی دے دی جس کے بعد اسرائیل کا ہدف حماس کے پانچ سینئر رہنماخالد مشعل‘ خلیل الحیہ‘ زاہرجبارین‘ محمد درویش اور ابومرزوق وہاں سے نکل گئے تاہم خلیل الحیہ کا بیٹا ہمام خلیل الحیہ اور حماس دفتر کے منیجرجہاد لبد شہید ہو گئے‘ قطر میں سینیٹ کام کے سب سے بڑے بیس العبید میں دس ہزار امریکی فوجی ہیں اور ان کا سربراہ فور اسٹار جنرل ہوتا ہے‘ بیس پر دنیا کے جدید ترین سسٹم لگے ہیں‘ قطر کی سیکیورٹی امریکا کے پاس ہے اور قطر ہر سال امریکا کو اس کے بدلے کئی بلین ڈالر ادا کرتا ہے۔
قطری حکومت نے امریکا کی ہدایت پر دوحہ میں حماس سے دفتر بنوایا تھا اور یہ امریکا کی خواہش پر حماس لیڈرشپ سے مذاکرات کر رہی تھی لیکن پھر اسرائیل نے اچانک حماس کے آفیشل دفتر پر حملہ کر دیا جس کے بعد بے شمار سوال پیدا ہو گئے مثلاً پہلا سوال یہ تھا کیا امریکا کو اس حملے کا علم تھا؟ وائیٹ ہاؤس کے مطابق اسرائیل نے امریکا کو اس وقت بتایا جب جہاز روانہ ہو چکے تھے اور ٹرمپ کے پاس صرف دس منٹ تھے اور یہ اس محدود وقت میں کچھ نہیں کر سکے‘ دوسرا سوال‘کیا اسرائیل نے دوحہ میں امریکا کے تمام آلات جام کر دیے تھے؟ اگر نہیں تو پھر امریکا کو اس حملے کا علم تھا اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے امریکا عربوں کا اتحادی ہونے کے باوجود عربوں کی حفاظت نہیںکرنا چاہتا اوراسے جب بھی عرب اور اسرائیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو اس کا ووٹ اسرائیل کے حق میں ہو گا اور عرب بلاوجہ اپنا سرمایہ ضایع کر رہے ہیں اوراس کے برعکس اگر امریکا کو علم نہیں تھا تو اس کا مطلب ہے۔
اسرائیل کی نظر میں امریکا کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ امریکا کے کسی بھی دوست کو کسی بھی وقت ٹارگٹ بنا سکتا ہے اور امریکا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ یہ صورت حال پہلی سے کہیں زیادہ خطرناک اور الارمنگ ہے اور اگربالفرض محال اسرائیل نے امریکا کی ٹیکنالوجی بھی جام کر دی تھی اور امریکی سیٹلائیٹ اور ریڈار اپنے ہی بنائے ہوئے ایف 15 طیاروں کو فضا میں ٹریس نہیں کر سکے تو پھر یہ امریکا سمیت پوری دنیا کے لیے تشویش ناک ہے پھر اسرائیل ٹیکنالوجی میں امریکا کا باپ ہے اور اب اسے کوئی نہیں روک سکتا۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے اگر اسرائیل نے سعودی عرب کے اوپر سے قطر پر حملہ کیا اور اسے بھی امریکی آلات ٹریس نہیں کر سکے تو پھر کوئی عرب ملک اسرائیل سے محفوظ نہیں حتیٰ کہ امریکا بھی ان کی حفاظت نہیں کر سکتا یہاں یہ بات بھی بہت اہم ہے امریکا کو آج عربوں کی ضرورت نہیں رہی ‘ امریکا 2000تک تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار تھا لیکن پھر شیل ٹیکنالوجی آئی اور امریکا دنیا میں تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ بن گیا‘ یہ اب خود ایکسپورٹر ہے چناں چہ اب یہ عربوں کا محتاج نہیں رہا اور یہ گلف میں صرف روس اور چین کی وجہ سے بیٹھا ہے‘ یہ سمجھتا ہے اگر میں یہاں سے نکل گیا تو روس اور چین تیل کے اس دہانے پر آ بیٹھیں گے جس سے امریکا کو نقصان ہو گا لہٰذا یہ گلف کی ریت نہیں چھوڑ رہا۔
عرب تین وجوہات سے امریکا کے محتاج ہیں‘ پہلی مجبوری باشاہت ہے‘ عرب میں امریکا کی وجہ سے بادشاہت قائم ہے جس دن امریکا ہٹ گیا اس دن تخت ہلنے لگیں گے‘ دوسرا شاہی خاندانوں کی ساری دولت مغربی ملکوں میں پارک ہے‘ لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ‘ شانزے لیزے اور مین ہیٹن کی زیادہ تر کمرشل بلڈنگز شاہی خاندانوں کی ملکیت ہیں‘ یہ جانتے ہیں جس دن امریکا ناراض ہو گیا اس دن یہ جائیدادیں ضبط ہو جائیں گی اور یہ فٹ پاتھ پر آ جائیں گے اور تیسری وجہ امریکا کے جنگی آلات ہیں۔
عربوں کے پاس جنگی طیاروں سے لے کر رائفلوں تک امریکا اور یورپ کے آلات ہیں لیکن ان کے پاس انھیں چلانے کی اہلیت اور فورس دونوں نہیں‘ کھربوں ڈالر کے آلات ان کے بیسز میں موجود ہیں مگر چلانے والے نہیں ہیں لہٰذا یہ امریکا کو بھاری معاوضہ دے کر ماہرین منگواتے ہیں‘ امریکی ریت میں جانا پسند نہیں کرتے چناں چہ یہ کانٹریکٹ لے کر اسے ’’سب لیٹ‘‘ کر دیتے ہیں جس کے بعد عرب چھاؤنیوں میں مشرقی یورپ کے یہودی اور اسرائیلی آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے اسرائیلی طیارے عراق یا سعودی عرب کے اوپر سے گزرتے ہیں تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی‘ عربوں کے آلات بند ہو جاتے ہیں اور یہ حملہ آور کو ٹریس نہیں کر سکتے‘ عرب بھی اس حقیقت سے واقف ہیں‘ یہ جانتے ہیں ہم اگر امریکا کو ناراض کردیتے ہیں تو پھر ہمارے کھربوں ڈالر کے آلات بے کار ہو جائیں گے۔
آپ اب اس سیناریو کو ذہن میں رکھ کر صورت حال دیکھیں‘ عربوں نے امریکا کی دوستی کے لیے کھربوں ڈالر ضایع کر دیے لیکن امریکا جون 1981میں اسرائیل سے عراق کا ایٹمی ریکٹر نہیں بچا سکا اور یہ ریکٹر بھی امریکا کے اتحادی فرانس نے لگایا تھا اور حملے کے دن بھی وہاں سیکڑوں فرنچ شہری کام کر رہے تھے‘یہ تاریخ 9 ستمبر2025ء کو دوسری بار دہرائی گئی‘ قطرکے العبیدائیربیس پر موجود دس ہزار امریکی فوجی اور 100 ارب ڈالر کی ٹیکنالوجی دوحہ کو حملے سے نہیں بچا سکی‘ اسرائیل نے اکتوبر 2023میں غزہ پر حملہ شروع کیا‘ عرب دو برس سے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کر رہے ہیں‘ غزہ میں 70 ہزار لوگ مر گئے‘ پورا خطہ مٹی کا ڈھیر بن گیا لیکن امریکا جنگ نہیں رکوا سکا‘ یہ صورت حال بھی اگر یہاں تک رہتی تو شاید قابل فہم تھی جب کہ اسرائیل نے اپریل میں بھارت کو پاکستان پر حملے پر بھی رضا مند کر لیا‘ یہ اب ثابت ہو رہا ہے پہلگام کا واقعہ موساد یا را کا منصوبہ تھا اور اس کا مقصد پاکستان پر حملہ تھا‘ افغانستان اور ایران میں را اور موساد مدت سے سرگرم عمل ہیں۔
جون میں ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد ثابت ہو گیا‘ اسرائیلی اور بھارتی ایجنٹوں نے پہلے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ذریعے پاکستان پر مغربی سائیڈ سے دباؤ بڑھایا پھر سوشل میڈیا کے ذریعے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا پھر پی ٹی آئی کو فوج کے سامنے کھڑا کیا اور پھر پہلگام کا ڈرامہ رچا کر پاکستان پر حملہ کر دیا۔
اس حملے میں پہلی مرتبہ اسرائیل نے کھل کر بھارت کا ساتھ دیااور اسے ہاروپ ڈرونز‘ ماہرین اور سیٹلائیٹ کی مدد دی لیکن اللہ کا خاص فضل تھا پاکستان نہ صرف بچ گیا بلکہ دنیا میں اس کی عزت میں بھی اضافہ ہوا‘ اسرائیل نے اس کے بعد 13 جون کو ایران پر حملہ کر دیا لیکن ایران نے 8جرنیلوں‘ 17سائنس دانوں اورنطنزنیوکلیئر سائیٹ کی قربانی کے باوجود اسرائیل کی مت مار کر رکھ دی‘ اسرائیل پر پہلی مرتبہ میزائلوں کی بارش ہوئی اور نیتن یاہو کو جارحیت کا مزہ چکھنا پڑگیا اگر اس وقت امریکا اس کا ساتھ نہ دیتا تو ایران اب تک تل ابیب کو غزہ بنا چکا ہوتا‘ یہ اسرائیل کی دوسری ہزیمت تھی لہٰذا اسرائیل خفت مٹانے کے لیے دوحہ پر حملے پر مجبور ہو گیا اور اس حملے نے عربوں کی آنکھیں کھول دیں۔
عربوں کے پاس اس کے بعد تین آپشن تھے‘ یہ ترکی کے ساتھ مل جاتے‘ ترکی فوجی لحاظ سے مضبوط ملک ہے لیکن یہ مہنگا بھی ہے اور عرب 1919 تک اس کی کالونی بھی رہے ہیں‘ عرب 500 سال عثمانی سلطنت کے باج گزار رہے تھے اور انھوں نے لڑ کر ترکی سے آزادی حاصل کی لہٰذا سعودی عرب ترکی کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا تھا‘ ایران کی فوج اور میزائل سسٹم تگڑا بھی ہے لیکن یہ جدید ٹیکنالوجی میں بھی مار کھاتا ہے‘ دوسرا سعودی عرب اور ایران میں نظریاتی اختلاف بھی ہے‘ عرب رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد 632سے ایران کے مخالف ہیں چناں چہ یہ اسے اپنی سیکیورٹی نہیں دے سکتے‘ پیچھے رہ گیا پاکستان تو یہ سعودی عرب کو سوٹ کرتا ہے۔
کیوں؟ چار وجوہات ہیں‘ یہ دنیا کی واحد اسلامی نیوکلیئر پاور ہے‘ دوم فوج بے انتہا تگڑی‘ پروفیشل‘ نڈر اور مستقل ہے‘ کسی بھی دور میں سیاست دان اس پر اثر انداز نہیں ہو سکے حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسا عالمی لیڈر بھی فوج کو قابو نہیں کر سکا‘ سوم ہم سعودی عرب کو سستے پڑتے ہیں‘ سعودی عرب کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہم یہ خدمت مفت بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور آخری وجہ اسرائیل صرف پاکستان سے ڈرتا ہے چناں چہ سعودی عرب نے 17ستمبر کو پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا اور آپ اس معاہدے کا پہلا کمال دیکھ لیجیے‘ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی پر رضا مند ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کیا پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر رہا ہے؟ یہ میں اگلے کالم میں عرض کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر حملہ کر دیا امریکا کو اس ٹریس نہیں کر میں امریکا اسرائیل نے پاکستان پر امریکا کے نے امریکا یہ امریکا امریکا کی کے ذریعے چناں چہ کے آلات اس حملے تھا اور ہیں اور کی فوج تو پھر اور یہ اور اس کے بعد کے پاس کے لیے ہو گیا ہے اور
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم