گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری کا گھوٹکی میں صحافی کے قتل پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اکتوبر2025ء) گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے گھوٹکی میں صحافی طفیل رند کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
(جاری ہے)
جاری اعلامیہ کے مطابق گورنرسندھ نے ہدایت دی کہ ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ صحافی طفیل رند پر حملہ آزادی صحافت پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافی طفیل رند کے قتل کی غیر جانبدار،شفاف تحقیقات ہر صورت یقینی بنائی جائے۔گورنر سندھ نے طفیل رند کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی کی دعا بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے طفیل رند
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔